پوٹھواری شاعر

چوہدری عابد حسین عابد لفظ کا مسافر، محبت کا آدمی،ایک شخص، ایک عہد کچھ لوگ اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی خود دوسروں کے لیے حاصلِ زندگی بن جاتی ہے۔ ان سے ملاقات محض ملاقات نہیں رہتی، صحبت محض صحبت نہیں رہتی اور گفتگو محض گفتگو نہیں رہتی؛ ان کے پاس بیٹھنے والا اپنے دامن میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور لے اٹھتا ہے جو مدتوں اس کے ساتھ رہتی ہے۔ کسی کے حصے میں علم آتا ہے، کسی کے حصے میں شہرت، کسی کو منصب ملتا ہے اور کسی کو دولت؛ لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں علم کی روشنی، فن کی نزاکت، کردار کی پاکیزگی اور انسان دوستی کی حرارت ایک ساتھ نصیب ہوتی ہے۔ چوہدری عابد حسین عابد کا شمار انہی خوش بخت لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔ وہ شاعر ہیں، مگر صرف شاعر نہیں؛ صاحبِ علم ہیں، مگر محض صاحبِ علم نہیں؛ خوش گفتار ہیں، مگر صرف خوش گفتار نہیں۔ ان کی شخصیت کا اصل حسن شاید یہ ہے کہ ان کے اندر فن اور انسان ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔ مٹی سے اٹھنے والی ایک آواز چوہدری عابد حسین عابد کا اصل نام چوہدری عابد حسین ہے۔ ادبی دنیا میں عابد اور محکم ان کے تخلص ہیں۔ والدِ گرامی کا نام چوہدری محمد بشیر تھا۔ سنہ 1960ء میں گاؤں چارہان، تحصیل مری، ضلع راولپنڈی کے اس خطے میں پیدا ہوئے جہاں پہاڑ صرف زمین کی بلندی نہیں بلکہ تاریخ، روایت، غیرت، سادگی اور لوک دانش کے امین بھی ہیں۔ پوٹھوہار کی مٹی میں ایک عجیب سی کشش ہے۔ یہاں کے سنگلاخ راستے، ڈھلوانیں، چشمے، کھیت، ڈیرے اور قدیم بستیاں اپنے اندر ایک ایسا تہذیبی حافظہ رکھتے ہیں جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے، مگر آسانی سے لفظوں میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ عابد حسین عابد کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مزاج میں بھی اسی مٹی کی کچھ خصوصیات اتر آئی ہیں—سادگی میں وقار، خاموشی میں گہرائی، لہجے میں مٹھاس اور تعلق میں پائیداری۔ دیارِ غیر کے تجربات زندگی نے انہیں وطن کی فضا تک محدود نہیں رکھا۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں قیام نے ان کے مشاہدے کو وسعت دی اور انہیں دیارِ غیر میں رہنے والے انسان کی کیفیات، محرومیوں، جدوجہد اور تجربات کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ پردیس انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ وہ اسے وطن کی قدر بھی بتاتا ہے اور انسانوں کے رویوں کی حقیقت بھی۔ وہ اسے یہ سمجھاتا ہے کہ آدمی جہاں بھی چلا جائے، اپنے اندر ایک پورا وطن لیے پھرتا ہے۔ عابد حسین عابد نے بھی زندگی کے ان تجربات کو محض یادوں کا حصہ نہیں بنایا بلکہ انہیں اپنے فکری اور ادبی شعور کا حصہ بنایا۔ استاد کی نسبت فن کی دنیا میں استاد کی نسبت محض ایک حوالہ نہیں، ایک سندِ تربیت ہوتی ہے۔ عابد حسین عابد کو علی اکبر سیف صاحب جیسے بڑے اور مقبولِ عام شاعر کی صحبت اور رہنمائی نصیب ہوئی۔ یہ نسبت ان کے ادبی سفر کا ایک اہم حوالہ ہے۔ شاعری صرف الفاظ کو مصرعوں میں سجانے کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسی ریاضت ہے جس میں لفظ کو معنی، جذبے کو تہذیب اور خیال کو آہنگ دینا پڑتا ہے۔ استاد کی صحبت اسی ریاضت کو سلیقہ عطا کرتی ہے۔ عابد حسین عابد کے ہاں زبان سے محبت، لفظ کی نزاکت اور شعر کے مزاج کی جو آگہی محسوس ہوتی ہے، اس کے پس منظر میں استادِ فن کی تربیت اور صحبت کا یہ چراغ یقیناً اپنی روشنی رکھتا ہے۔ شاعر جو زندگی کو پڑھتا ہے حقیقی شاعر وہ نہیں جو صرف خوب صورت الفاظ برت لے؛ حقیقی شاعر وہ ہے جو زندگی کے باطن کو پڑھ سکے۔ جو چہروں کے پیچھے چھپی اداسی دیکھ سکے، خاموشی میں چھپی فریاد سن سکے، خوشی کے پیچھے چھپی محرومی کو محسوس کر سکے اور عام سے دکھائی دینے والے واقعے میں غیر معمولی معنی تلاش کر سکے۔ عابد حسین عابد کی شاعری اور ان کی گفتگو میں یہی انسانی تجربہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کے لیے ادب زندگی سے فرار کا راستہ نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا وسیلہ ہے۔ ان کے ہاں شعر محض لفظوں کی آرائش نہیں، احساس کی ترجمانی ہے؛ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف ان کے شعری سرمائے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہیں سمجھنے کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھنا، ان کی گفتگو سننا اور ان کے ساتھ زندگی کے موضوعات پر بات کرنا ضروری ہے۔ صحبت جسے یاد رکھا جائے راقم السطور کو طویل عرصے تک چوہدری عابد حسین عابد کی صحبت میسر رہی۔ یہ میرے لیے محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا ادبی و انسانی فیضان تھا جس کی خوشبو آج بھی حافظے میں باقی ہے۔ ہماری نشستوں میں شاعری، علم و ادب اور زبان و بیان تو ہمیشہ زیرِ بحث رہتے تھے، مگر گفتگو کا دائرہ کتابوں کی دنیا تک محدود نہیں رہتا تھا۔ زندگی بھی ہماری گفتگو کا موضوع بنتی اور عابد صاحب اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے پہلو سامنے لاتے جن تک محض کتابیں پڑھ کر رسائی ممکن نہیں۔ وہ معاشرتی زندگی کے معاملات پر جس خلوص سے رہنمائی فرمایا کرتے، اس میں کسی واعظ کا تصنع نہیں بلکہ ایک جہاندیدہ انسان کی بے ساختہ خیرخواہی ہوتی تھی۔ ان کے مشورے میں حکم نہیں ہوتا تھا، حکمت ہوتی تھی۔ ان کی گفتگو میں تفاخر نہیں ہوتا تھا، تجربہ بولتا تھا۔ ان کی اصلاح میں ملامت نہیں ہوتی تھی، محبت ہوتی تھی۔ اور یہی کسی بڑے انسان کی اصل پہچان ہے۔ لفظوں کا آدمی عابد حسین عابد کے لیے لفظ محض لفظ نہیں؛ لفظ ایک ذمہ داری ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے تہذیبی حافظہ بھی تصور کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایسے الفاظ کی تلاش محسوس ہوتی ہے جو اب روزمرہ سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ نادر اور کم یاب الفاظ ان کے ذوقِ مطالعہ اور زبان سے گہری وابستگی کا پتہ دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے ان کی بات میں ایک مخصوص لفظی وقار محسوس ہوتا ہے۔ وہ عام بات کو بھی ایسے پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ اس میں تجربے کی حرارت اور فکر کی روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔ عابد حسین عابد ایک ادبی شناخت شاعری کسی شخص کے جذبات کا آئینہ تو ہوتی ہی ہے، مگر بڑے شاعر کے ہاں وہ اس کے عہد کا آئینہ بھی بن جاتی ہے۔ عابد حسین عابد کی شاعری کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے شعر محض قافیہ و ردیف کی مشق نہیں بلکہ احساس، تجربے اور مشاہدے کا حسین امتزاج ہے۔ ایک حقیقی شاعر وہی ہوتا ہے جو اپنے گردوپیش کے دکھ، خوشی، محرومی، محبت، جدائی، انسانی تعلق اور معاشرتی حقیقت کو اپنے اندر جذب کرکے اسے لفظوں میں ڈھال دے۔ عابد حسین عابد کی شخصیت میں شاعر اور انسان ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ان کا انسانی تجربہ ان کے شعری مزاج کو غذا فراہم کرتا ہے اور ان کا ادبی شعور ان کے انسانی رویوں کو مزید شائستگی عطا کرتا ہے۔ ایک عہد کی یادداشت وقت گزر جاتا ہے، لوگ عمر کی منزلیں طے کرتے ہیں، محفلیں بکھر جاتی ہیں اور بہت سے نام رفتہ رفتہ حافظے کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں؛ مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت اپنے ساتھ نہیں لے جا پاتا۔ وہ لوگوں کی یاد میں نہیں، لوگوں کے مزاج میں زندہ رہتے ہیں۔ چوہدری عابد حسین عابد بھی میرے نزدیک ایسی ہی شخصیت ہیں۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ ایک ایسا سرمایہ ہے جس میں شعر بھی ہے، ادب بھی، تجربہ بھی، محبت بھی اور انسان دوستی بھی۔ ان کی صحبت نے یہ احساس مزید پختہ کیا کہ کسی انسان کی بڑائی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے، کتنے شعر کہتا ہے یا کتنی شہرت رکھتا ہے؛ اصل بڑائی تو اس میں ہے کہ وہ دوسروں کے دل میں اپنے لیے کتنی عزت، محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور اس میزان پر چوہدری عابد حسین عابد کا قد یقیناً بلند ہے۔ عابد حسین عابد صاحب کا اصل کمال اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ عابد حسین عابد کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے تو شاید میں ان کی شاعری کا ذکر کرنے سے پہلے۔ ان کی انسانی شرافت کا ذکر کروں گا۔ وہ بااخلاق ہیں، ملنسار ہیں، عاجز ہیں، خوش مزاج ہیں اور سب سے بڑھ کر مخلص ہیں۔ آج کے عہد میں مخلص ہونا شاید سب سے مشکل وصف ہے۔ تعلقات بہت ہیں مگر اخلاص کم؛ گفتگو بہت ہے مگر دل کی بات کم؛ ملاقاتیں بہت ہیں مگر صحبت کم۔ عابد حسین عابد ان لوگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ابھی دنیا میں بے غرض تعلق، بے لوث محبت اور بے ساختہ خلوص پوری طرح ناپید نہیں ہوا۔ وہ کسی کی بات سن کر فوراً فیصلہ صادر نہیں کرتے بلکہ پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں وہ عجز ہے جو علم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اور وہ کشادگی جو بڑے دل والوں کا خاصہ ہے۔ لفظوں کے امین عابد حسین عابد کے مزاج میں زبان کے قدیم اور نادر الفاظ سے ایک خاص انس محسوس ہوتا ہے۔ وہ ان لفظوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں جو روزمرہ کی تیز رفتار دنیا میں رفتہ رفتہ متروک ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صرف الفاظ کا ذخیرہ نہیں؛ یہ تہذیب کا محفوظ خزانہ ہے۔ ہر نایاب لفظ کے ساتھ ایک زمانہ وابستہ ہوتا ہے، ایک تہذیبی تجربہ، ایک مخصوص احساس اور ایک پورا معاشرتی منظرنامہ۔ جو شخص ایسے الفاظ کو زندہ رکھتا ہے، وہ دراصل زبان کے ساتھ ساتھ ایک تہذیبی روایت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔ اسی لیے عابد حسین عابد کی زبان سے نکلنے والا کوئی قدیم یا نادر لفظ محض لغوی حسن نہیں رکھتا بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری دنیا سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ شخصیت جو شعر سے بڑی ہے عابد حسین عابد کو صرف شاعر کہنا شاید ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی شخصیت خود ایک متن ہوتی ہے۔ ان کی مجلس ایک کتاب کی مانند ہے؛ ان کی گفتگو ایک تجربے کی طرح؛ ان کی نصیحت ایک خیرخواہ دعا کی طرح؛ اور ان کی دوستی ایک ایسے سائے کی مانند جس کی ٹھنڈک کا احساس وقت گزرنے کے بعد زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔ بعض لوگ محفل میں بیٹھ کر محفل کا حصہ ہوتے ہیں، مگر بعض لوگ محفل اٹھ جانے کے بعد بھی محفل کی یاد بنے رہتے ہیں۔ عابد حسین عابد انہی لوگوں میں سے ہیں۔ ایک عہد کی خوشبو وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ نسلیں بدلتی ہیں، ذوق بدلتے ہیں، زبان کے لہجے بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں اور بہت سے نام وقت کی گرد میں چھپ جاتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے عہد میں لفظ، محبت اور کردار کے چراغ روشن کیے ہوں، ان کا چراغ آسانی سے نہیں بجھتا۔ چوہدری عابد حسین عابد بھی میرے لیے ایسے ہی چراغ ہیں۔ ان کی شخصیت میں پوٹھوہار کی مٹی کی خوشبو ہے، دیارِ غیر کے تجربے کی تلخی و شیرینی ہے، استاد کی تربیت کی روشنی ہے، شاعر کی حساسیت ہے اور ایک درویش صفت انسان کی عاجزی ہے۔ یہ امتزاج کم یاب ہے۔ آخر میں زندگی میں بعض ملاقاتیں حادثہ ہوتی ہیں، بعض تعلقات ضرورت، بعض دوستیاں وقت کی پیداوار؛ لیکن کچھ صحبتیں ایسی ہوتی ہیں جو تقدیر کا عطیہ محسوس ہوتی ہیں۔ چوہدری عابد حسین عابد کی صحبت میرے لیے ایسی ہی ایک نعمت رہی ہے۔ میں نے ان میں ایک شاعر دیکھا، مگر اس سے بڑھ کر ایک انسان دیکھا۔ ایک صاحبِ علم دیکھا، مگر اس سے بڑھ کر ایک صاحبِ دل دیکھا۔ ایک استاد مزاج شخص دیکھا، مگر اس سے بڑھ کر ایک مخلص رفیق دیکھا۔ اور شاید یہی ان کی شخصیت کا سب سے بڑا تعارف ہے کہ انہیں جتنا قریب سے دیکھا، اتنا ہی ان کے اندر موجود انسان شاعر پر غالب آتا گیا۔ آج جب ماضی کے دریچے کھلتے ہیں تو ان کی گفتگو کے کئی جملے، ان کی مجلس کی کئی ساعتیں اور ان کی محبت بھری رہنمائی کے کئی لمحے یادوں کے افق پر اب بھی روشن دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے لوگ عمر سے بڑے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ وقت سے آگے چلتے ہیں۔ اور ایسے لوگ جب ہماری زندگی سے گزر بھی جائیں تو ہماری یادداشت سے نہیں گزرتے۔ چوہدری عابد حسین عابد بھی میرے لیے ایک نام نہیں؛ وہ ایک یاد، ایک نسبت، ایک صحبت اور ایک روشن ادبی حوالہ ہیں۔ اور اگر ایک جملے میں ان کا تعارف لکھنا ہو تو میں شاید یہی کہوں گا: "عابد حسین عابد وہ شخص ہیں جنہوں نے لفظوں کو شعر، تجربے کو حکمت اور تعلق کو خلوص میں ڈھال کر زندگی کو ایک خوب صورت معنی عطا کیا۔"

راجہ شبیر احمد طاہر، نکا میرا روات، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے شاعر ہیں۔ کاروانِ ادب انٹرنیشنل سے وابستہ ہیں۔

سائیں ظہور قریشی — پوٹھوار کی آواز، لفظوں کا مسافر بعض لوگ زندگی کے ہجوم میں محض ایک نام ہوتے ہیں، مگر بعض شخصیتیں اپنے عہد کی پہچان بن جاتی ہیں۔ ان کے لفظ، ان کا لہجہ، ان کی فکر اور ان کی کاوشیں رفتہ رفتہ ایک ایسی شناخت اختیار کر لیتی ہیں جو فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر پورے خطے کی آواز بن جاتی ہے۔ سائیں ظہور قریشی بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جنہوں نے پوٹھوار کی مٹی سے جنم لے کر اپنے لفظوں، اپنی شاعری اور اپنی ثقافتی خدمات کے ذریعے پوٹھواری ادب کو نئی وسعتوں سے آشنا کیا۔ سائیں ظہور قریشی، جن کا شعری تخلص "ظہور" اور "ظہور سائیاں" ہے، محمد رمضان قریشی کے فرزند ہیں۔ آپ کا تعلق پوٹھوار کے تاریخی اور تہذیبی خطے کے گاؤں گوڑھا قریشیاں، مندرہ، تحصیل گوجرخان سے ہے۔ آپ نے 10 دسمبر 1972ء کو اس دھرتی پر آنکھ کھولی جس کی مٹی میں محبت، سادگی، غیرت اور لوک دانش صدیوں سے اپنی خوشبو بکھیرتی آئی ہے۔ یہ شاید قدرت کا خاص عطیہ ہوتا ہے کہ کسی انسان کے دل میں لفظ اترتے ہیں اور پھر وہ لفظ لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ظہور قریشی کی شاعری کا سفر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا نام پوٹھواری شاعری کے ان نمائندہ ناموں میں شمار ہونے لگا جن کے اشعار محفلوں کی زینت بننے لگے۔ آج پوٹھوار اور کشمیر کے معروف شعر خوانوں کی زبان سے ان کے اشعار سننے کو ملتے ہیں۔ شعری محفلیں ہوں، ثقافتی پروگرام ہوں یا دیارِ غیر میں پوٹھواری محبتوں کی نشستیں، ظہور قریشی کے الفاظ اپنی الگ پہچان کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔ یہ مقبولیت محض اتفاق نہیں بلکہ اس تخلیقی سچائی کی دلیل ہے جو ان کے کلام میں موجود ہے۔ سوشل میڈیا پر پوٹھواری شاعری کا ابتدائی سفر پوٹھواری ادب کی جدید ڈیجیٹل تاریخ میں سائیں ظہور قریشی کا نام ایک نمایاں حوالہ رکھتا ہے۔ وہ زمانہ جب سوشل میڈیا پر پوٹھواری شاعری کو آج جیسی وسعت اور پذیرائی حاصل نہ تھی، ظہور قریشی نے اس میدان میں لفظوں کا چراغ روشن کیا۔ فیس بک کے ابتدائی پوٹھواری صفحات میں سے ایک، "اپنا پوٹھوار" پر انہوں نے اپنے علاقے کے معروف شاعر عبدالرحمان عبدل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انکا لکھا ہوا یہ شعر پوسٹ کیا۔ عبدل گلی وچوں لکھاں انسان لہنگدے رکھیے دل دل پر دلاں والی جائی رکھیے یہ محض ایک پوسٹ نہ تھی؛ یہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر پوٹھواری شاعری کو سوشل میڈیا کی وسیع دنیا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوٹھوار کے نوجوان، شعراء، شعر خوان اور ادب سے محبت رکھنے والے لوگ اس کارواں سے جڑنے لگے۔ وہ شاعری جو کبھی مخصوص محفلوں، دیہات کی چوپالوں اور محدود ادبی نشستوں تک سمٹی ہوئی تھی، ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے گھر گھر پہنچنے لگی۔ یوں لفظوں کا یہ سفر محض شاعری کا سفر نہ رہا بلکہ پوٹھواری شناخت، ثقافت اور زبان کے احیا کی ایک نئی جہت بن گیا۔ اپنا پوٹھوار ویب ٹی وی — ایک خواب سے حقیقت تک سائیں ظہور قریشی صرف شاعر نہیں، بلکہ ایک صاحبِ فکر اور متحرک ثقافتی کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو بہت پہلے محسوس کر لیا تھا کہ اگر اپنی زبان اور ثقافت کو نئی نسل تک پہنچانا ہے تو جدید ذرائع ابلاغ سے رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنا پوٹھوار ویب ٹی وی کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوا جس نے پوٹھوار کی آواز کو سرحدوں سے آزاد کر دیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے براہِ راست پوٹھواری شاعری، شعر خوانی اور ثقافتی پروگرام نشر ہونے لگے۔ دیارِ وطن سے دور بیٹھا پوٹھواری اپنے گاؤں، اپنی زبان، اپنے لہجے اور اپنی تہذیب کی خوشبو محسوس کرنے لگا۔ یہ محض ایک ویب ٹی وی نہ تھا؛ یہ بکھرے ہوئے پوٹھواریوں کے درمیان محبت کا ایک پل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پوٹھوار ٹی وی نیوز، اے پی ٹی نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے اور اپنا پوٹھوار ڈاٹ کام جیسے پلیٹ فارمز کی بنیاد بھی رکھی، جو اپنی اپنی سطح پر عوام میں مقبول ہوئے اور پوٹھوار سے وابستہ معلومات، خبریں اور ثقافتی سرگرمیاں لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ استاد کی نسبت — شاعری کی معتبر روایت ہر فنکار کے سفر میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو اس کی زندگی کا مستقل حوالہ بن جاتے ہیں۔ سائیں ظہور قریشی کے ادبی سفر میں بھی ایک نہایت اہم اور روح پرور نسبت استادِ محترم حاجی چوہدری مشتاق آسی آف راجور، آزاد کشمیر کی شاگردی ہے۔ مشتاق آسی ایک صاحبِ کتاب، صاحبِ فکر اور معتبر شاعر ہیں، جن کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ سائیں ظہور قریشی نے مملکتِ بحرین میں منعقد ہونے والی استاد محترم مشتاق آسی صاحب کی الوداعی تقریب کے موقع پر باقاعدہ طور پر ان کی شاگردی اختیار کی۔ یہی وہ بابرکت لمحہ تھا جب ایک تخلیق کار کو استاد کی سرپرستی اور روایت کی مضبوط ڈور نصیب ہوئی۔ ان کا پہلا مشاعرہ بھی استاد محترم کے زیرِ سایہ پڑھا گیا۔ صدائے درد — دل سے نکلی آواز سائیں ظہور قریشی کی پہلی کتاب "صدائے درد" اسی داخلی کرب اور احساس کی نمائندہ ہے۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی۔ ان کی دوسری کتاب "دردِ حبیب" عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ ریاض میں پوٹھوار کی ادبی بستی بسلسلۂ روزگار سائیں ظہور قریشی اس وقت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم ہیں۔ ریاض میں انہوں نے پوٹھواری شعر خوانی کی محفلوں کا باقاعدہ آغاز کیا اور اوورسیز پوٹھوار گروپ ریاض کی بنیاد رکھی۔ کاروانِ ادب انٹرنیشنل — ایک خواب، ایک مشن سائیں ظہور قریشی کی شخصیت کا شاید سب سے وسیع اور دور رس پہلو کاروانِ ادب انٹرنیشنل ہے۔ یہ پوٹھواری ادب، شاعری، تاریخ اور ثقافت کے تحفظ اور فروغ کا ایک سنجیدہ اور مربوط مشن ہے۔ سائیں ظہور قریشی — ایک نام نہیں، پوٹھوار کے لفظوں میں دھڑکتا ہوا ایک عہد ہیں۔

سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں پائخان، گوجرخان، ضلع راولپنڈی «“کچھ لوگ وقت کے ساتھ گزر جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ وقت گزرنے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی زندگی صرف ان کی اپنی نہیں ہوتی، وہ ایک زبان، ایک ثقافت، ایک روایت اور ایک پورے عہد کی نمائندگی کرتی ہے۔ سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں بھی پوٹھوار کے انہی بے لوث سپوتوں میں سے تھے، جنہوں نے اپنے لہجے کو شاعری، اپنی آواز کو ثقافت اور اپنے دل کو عشقِ رسول ﷺ کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی دبنگ شعرخوانی نے محفلوں کو گرمایا، ان کی نظامت نے ثقافتی اجتماعات کو رونق بخشی، ان کے قلم نے پوٹھوار کے احساسات کو لفظ عطا کیے اور ان کی محبت نے انہیں آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھا ہے۔”» تعارف نام: سائیں عبدالرحیم تخلص: رخیم سائیاں پیدائش: 17 نومبر 1961ء وفات: 13 دسمبر 2003ء آبائی گاؤں: پائخان، گوجرخان، ضلع راولپنڈی استادِ سخن: فاضل شائق تصنیف: انمول سوچاں شعبۂ خدمات: شاعری، شعرخوانی، نظامت، ثقافتی و ادبی خدمات خصوصی اعزاز: اسٹیج کے بے تاج بادشاہ پوٹھوار کا ایک یادگار نام پوٹھوار کی مٹی نے ہمیشہ ایسے اہلِ کمال پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر اپنی دھرتی، زبان، ادب اور ثقافت سے محبت کی۔ سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں بھی اسی روشن روایت کے ایک معتبر نام تھے۔17 نومبر 1961ء کو گاؤں پائخان، گوجرخان، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہونے والے سائیں رخیم سائیاں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پوٹھواری ادب، شعرخوانی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے وقف کیے رکھا۔وہ صرف شاعر نہیں تھے؛ وہ ایک دبنگ لہجے کے صاحبِ اسلوب شعرخوان، پرجوش اسٹیج سیکرٹری، ثقافت کے بے لوث خادم اور محفل آرائی کے ماہر تھے۔انکے شاگرد جنکی دوست احباب نے تصدیق کی راجہ غلام جیلانی رجب آف بڑکی بدھال گوجرخان حال مقیم گریس ہیں جب وہ اسٹیج پر آتے تو محفل محض محفل نہیں رہتی تھی، ایک کیفیت اختیار کر لیتی تھی۔ ان کے اندازِ بیان میں جوش بھی تھا، ولولہ بھی، برجستگی بھی اور پوٹھواری مٹی کی وہ مخصوص خوشبو بھی جس سے سامعین خود کو جڑا ہوا محسوس کرتے تھے۔ عشقِ رسول ﷺ — دل کی سب سے بڑی دولت سائیں رخیم سائیاں کی زندگی کا ایک نہایت روشن اور قابلِ احترام پہلو عشقِ رسولِ کریم ﷺ تھا۔ وہ انجم ثناء خوانِ محمد ﷺ کے بانی اور سرپرستِ اعلیٰ تھے۔ محبتِ رسول ﷺ ان کے لیے محض ایک عقیدہ یا موضوعِ سخن نہیں بلکہ زندگی کا عملی جذبہ تھا۔ وہ اپنی وفات تک ہر سال ولادتِ رسولِ کریم ﷺ کے سلسلے میں محفلِ مشاعرہ منعقد کرواتے رہے۔ ان محافل میں پوٹھوار اور کشمیر کے جید شعراء شریک ہوتے اور شعر و ادب کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو بھی چار سو پھیلتی۔ وہ علمی اور ادبی نشستوں کے اہتمام کا بھی خاص ذوق رکھتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ اہلِ سخن ایک دوسرے سے ملیں، شعر و ادب پر گفتگو ہو اور پوٹھواری ادبی روایت آگے منتقل ہوتی رہے۔ ان کے دل کی ترجمانی ان کے اس شعر میں پوری شدت سے محسوس ہوتی ہے: «دنیا رہوے نہ رہوے رخیم سائیاں ذکرِ آلِ رسول ضرور رہسی» یہ شعر محض ایک شعر نہیں، بلکہ رخیم سائیاں کے فکری اور روحانی سفر کا خلاصہ محسوس ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز فنا پذیر ہے، انسان بھی رخصت ہو جاتا ہے، مگر محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ ذکر وہ دولت ہے جو نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ فاضل شائق — استادِ سخن شاعری میں سائیں رخیم سائیاں کے استاد فاضل شائق تھے۔ استاد سے فیض حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے شعری ذوق کو ایک واضح سمت دی اور ایسا انداز اپنایا جو بعد میں ان کی شناخت بن گیا۔ ان کے کلام میں پوٹھوار کی روزمرہ زندگی، انسانی رویے، محبت، دکھ، رشتوں کی نزاکت اور معاشرتی مشاہدات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو: «بڑا مہنگا تے مشکل رخیم سودا خاطر کسے دے زندگی تباہ کرنا» سادہ الفاظ میں زندگی کے ایک بڑے فلسفے کو بیان کرنا ان کی شاعری کی نمایاں خوبی تھی۔ پوٹھوار کی محفلوں میں سائیں رخیم سائیاں کی اپنی ایک الگ پہچان تھی۔ ان کا شعر پڑھنے کا مخصوص انداز سامعین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا تھا۔ آواز کا اتار چڑھاؤ، مصرعے کی ادائیگی، برجستہ گفتگو اور مناسب موقع پر شعر کا استعمال ان کی شعرخوانی کو منفرد بناتا تھا۔ ان کی شاعری پوٹھوار کے تقریباً ہر شعرخوان تک پہنچی۔ بہت سے شعرخوانوں نے ان کا کلام اپنی محفلوں میں پڑھا اور یوں ان کے الفاظ ان کی زندگی کے بعد بھی لوگوں تک پہنچتے رہے۔ یہی ایک شاعر کی اصل زندگی ہے کہ اس کی آواز خاموش ہونے کے بعد بھی اس کا شعر بولتا رہے۔ اسٹیج کا بے تاج بادشاہ سائیں رخیم سائیاں کی شخصیت کا ایک اور نمایاں حوالہ ان کی اسٹیج سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات ہیں۔ ثقافتی پروگرام ہوں یا محفلِ شعرخوانی، وہ اسٹیج کو اس انداز سے سنبھالتے کہ محفل میں ایک خاص روانی پیدا ہو جاتی۔ ان کی حاضر جوابی، برجستگی، پرجوش اندازِ گفتگو اور شعراء و سامعین سے براہِ راست رابطہ ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اسی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے ثقافتی حلقوں میں انہیں “اسٹیج کا بے تاج بادشاہ” بھی کہا جاتا تھا۔ یہ اعزاز محض الفاظ نہیں تھے؛ اس کے پیچھے برسوں کی محفل شناسی، مطالعہ، مشاہدہ اور ثقافت سے سچی وابستگی موجود تھی۔ “انمول سوچاں” — ایک ادبی ورثہ سائیں رخیم سائیاں کی خوبصورت شاعری کو کتابی شکل میں بھی محفوظ کیا گیا، جس کا نام “انمول سوچاں” تھا۔ یہ کتاب پوٹھوار کے ادبی حلقوں میں پسند کی گئی اور اہلِ ذوق نے اسے شوق سے خریدا اور پڑھا۔ انمول سوچاں ان کے شعری احساسات اور فکری دنیا کا ایک اہم حوالہ ہے۔ ایسی کتابیں صرف کاغذ پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں ہوتیں؛ یہ دراصل ایک دور کی آواز، ایک شاعر کی سوچ اور ایک ثقافت کی ادبی یادداشت ہوتی ہیں۔ ثقافت کے لیے ایک بے لوث زندگی سائیں رخیم سائیاں نے ثقافت کو صرف شوق کے طور پر نہیں اپنایا تھا بلکہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔ گرمی ہو یا سردی، دن ہو یا رات، وہ ثقافتی پروگراموں اور محفلِ شعرخوانی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ ان لوگوں کی خدمات کو سمجھنے کے لیے اس دور کے حالات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ آج سہولیات نسبتاً آسان ہیں، مگر ایک وقت تھا جب شعراء اور شعرخوان حضرات اپنی جیب سے کرایہ خرچ کرکے دور دراز علاقوں کی محفلوں میں پہنچتے تھے۔ اپنے گھر، بیوی بچوں اور ذاتی آرام سے وقت نکال کر ثقافت کے لیے راتیں باہر گزارنا معمولی قربانی نہیں تھی۔ شعرخوانی بہت سے لوگوں کا ذریعۂ معاش بھی رہی، مگر ایسے بے شمار لوگ بھی تھے جنہوں نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے اپنی ثقافت کو وقت، توانائی اور وسائل دیے۔ سائیں رخیم سائیاں انہی بے لوث لوگوں میں شامل تھے۔ اپنے محسنوں کو یاد رکھنا ہوگا آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان لوگوں کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان کے نام اور کام کو محفوظ بھی کریں۔ پوٹھوار کی ثقافت کسی ایک دن یا ایک نسل کی محنت کا نتیجہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایسے بے شمار شاعر، شعرخوان، فنکار، منتظم اور ثقافتی کارکن موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت اس دھرتی کے نام کیا۔ اگر ہم نے ان کا ذکر نہ کیا تو آنے والی نسل شاید یہ جان ہی نہ سکے کہ پوٹھواری ادب اور ثقافت کے سفر میں کن لوگوں نے اپنی زندگیاں صرف کی تھیں۔ سائیں رخیم سائیاں جیسے لوگوں کا تذکرہ دراصل اپنی ثقافتی تاریخ کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔ ان کے اشعار پڑھنا، ان کی کتاب کو محفوظ کرنا، ان کے فن کا ذکر کرنا اور نئی نسل کو ان کے بارے میں بتانا ہی ان کے لیے اصل خراجِ عقیدت ہے۔ ایک نام جو آج بھی زندہ ہے سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں 13 دسمبر 2003ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی آواز خاموش نہیں ہوئی۔ وہ اپنے اشعار میں زندہ ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔ وہ ان محفلوں میں زندہ ہیں جہاں آج بھی ان کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ وہ انمول سوچاں کے صفحات میں زندہ ہیں۔ وہ پوٹھوار کی اس ثقافت میں زندہ ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی۔ اور شاید یہی کسی شاعر کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کا وجود ختم ہو جائے مگر اس کا لفظ باقی رہ جائے۔ سائیں رخیم سائیاں نے خود کہا تھا: «دنیا رہوے نہ رہوے رخیم سائیاں ذکرِ آلِ محمدؑ ضرور رہسی» واقعی! دنیا رہے یا نہ رہے، وقت بدلے یا نہ بدلے، مگر اہلِ دل اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں۔ اور جب تک پوٹھوار میں شعر پڑھا جاتا رہے گا، جب تک اس دھرتی کی ثقافت کا ذکر ہوتا رہے گا، جب تک عشقِ رسول ﷺ سے معمور کلام محفلوں میں گونجتا رہے گا، سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں کا نام بھی کسی نہ کسی زبان پر ضرور رہے گا۔ دعائے مغفرت اللہ تعالیٰ سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی ادبی، ثقافتی اور دینی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ کاروانِ ادب انٹرنیشنل “جنہوں نے ثقافت کو وقت دیا، آنے والی نسلوں کو ان کا نام دینا ہوگا۔”

سائیں محمد صادق صدیقؒ شہنشاہِ پوٹھوہار، درویشِ کامل اور پیکرِ فقر و عشق ہیں۔ پوٹھوہار کی مردم خیز دھرتی نے ہمیشہ ایسے عارفانِ باللہ اور سخن وروں کو جنم دیا ہے جن کی فکر اور کردار نے اس خطے کے تہذیبی شجر کو ہمیشہ شاداب رکھا، اور ان میں سائیں محمد صادق صدیقؒ کا نام طرۂ امتیاز ہے۔ ولادت، ابتدائی حیات اور طریقت ولادت و مسکن: آپ 1920ء میں موضع کلیاہ (قریب چراہ، ضلع اسلام آباد) میں قائم دین صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ ترکِ دنیا و سفرِ فقر: ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی، مگر درویشانہ طبیعت اور باطنی بے چینی کے باعث جلد ہی ملازمت ترک کر کے فقر و درویشی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ نسبتِ طریقت: آپ نے گوجرخان کے عظیم صوفی حضرت سید امداد حسین شاہؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، جنہوں نے آپ کے روحانی و ادبی مقام کو دیکھتے ہوئے "شہنشاہِ پوٹھوہار" کے لقب سے نوازا۔ فکری جہات اور فنکارانہ شخصیت کلام و تصنیف: آپ کی مشہورِ زمانہ تصنیف "فقر و عشق" صوفیانہ افکار، معرفت اور کلامِ الٰہی کی تڑپ کا بے مثال شاہکار ہے، جس کا ہر مصرع روح میں اتر جانے والی کیفیت رکھتا ہے۔ فنِ موسیقی و ستار نوازی: قدرت نے آپ کو موسیقی اور راگ و راگنیوں کی باریکیوں سے بھی مالا مال کیا تھا۔ آپ ایک بے بدل ستار نواز تھے؛ ساز اور آواز کا یہ امتزاج ان کی محافل کو وجدانی کیفیت عطا کر دیتا تھا۔ مکتبِ ادب: آپ محض ایک شاعر نہیں بلکہ فنِ شعر خوانی کے استادِ کامل تھے۔ آپ کی صحبت نے پوٹھوہاری ادب کو درجنوں باکمال شاگرد دیے جنہوں نے آپ سے لفظ کی حرمت اور شعر کا قرینہ سیکھا۔ بے نیازی اور وصال سائیں صدیقؒ نے تمام عمر مجرد رہ کر گزاری اور دنیاوی مال و متاع یا ذاتی مکان سے مکمل بے نیاز رہے۔ آپ کا وصال 6 دسمبر 1981ء کو عصر کے وقت ہوا اور مرشد کے حکم پر آپ کی آخری آرام گاہ کلیاہ کے قدیم قبرستان میں بنائی گئی۔ سائیں محمد صادق صدیقؒ کا چھوڑا ہوا فکری و ادبی ورثہ آج بھی پوٹھوہار کی وادیوں میں معطر ہے اور اہلِ ذوق کے دلوں کو گرماتا ہے۔

غرق میکی وی انہاں اعجاز کیتا اجکل تساں نے بنڑے ہوئے یار جہڑے

سائیں محمد محفوظؒ — شام ڈھلنے سے پہلے منزل یاد دلانے والا شاعر پوٹھوہار کی مردم خیز دھرتی صدیوں سے ایسے درویش صفت انسانوں کی آماج گاہ رہی ہے جنہوں نے نہ اقتدار کے ایوانوں میں نام و نمود کی تمنا کی، نہ مال و زر کے انبار جمع کیے، بلکہ اپنے اعلیٰ کردار، قلبی درد اور فکر انگیز کلام سے دلوں پر ایسی لازوال حکمرانی قائم کی کہ وقت کی گرد بھی ان کے نقوشِ پا کو دھندلا نہ سکی۔ انہی خاموش مگر فروزاں چراغوں میں ایک تابندہ نام سائیں محمد محفوظؒ کا بھی ہے، جنہوں نے مختصر حیاتِ مستعار میں فکر و فن کا ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ آج بھی ان کا کلام ہزاروں سوگوار دلوں کی ترجمانی کر رہا ہے۔ سائیں محمد محفوظؒ 1953ء میں کرم داد کے گھر، موضع تلنی (مٹور، تحصیل کہوٹہ) میں جلوہ آرا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مٹور کے اسکول سے حاصل کی جبکہ دینی علوم کی تشنہ کامی اپنے آبائی گاؤں کے مکتب میں بجھائی۔ قدرت نے انہیں بلا کی ذہانت اور نکتہ رس فہم سے نوازا تھا، مگر عسرت و تنگ دستی نے تعلیم کی شاہراہ میں سدِ سکندری کھڑی کر دی؛ چنانچہ مڈل کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ منقطع کر کے انہیں عملی زندگی کی خاردار راہوں پر قدم رکھنا پڑا۔ 3 اپریل 1973ء کو انہوں نے پاک فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔ عسکری زندگی نے ان کے مزاج میں نظم و ضبط، خودداری اور عزم و حوصلہ پیدا کیا، مگر لوحِ تقدیر پر ان کے لیے ایک منفرد راستہ رقم تھا۔ تقریباً آٹھ برس وطنِ عزیز کی پاسبانی کے بعد 9 فروری 1981ء کو وہ فوج کی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ بعد ازاں روزگار کی جستجو انہیں دیارِ غیر—سلطنتِ عمان، مسقط اور صلالہ—لے گئی۔ پردیس کی خاک چھانی، مگر حالات سازگار نہ ہو سکے۔ قریب چار برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے اور رزقِ حلال کی تلاش میں آر سی کولا، سہالہ (ہمک) میں ملازمت اختیار کی، لیکن ان کی درویشانہ اور آزاد منش طبیعت زیادہ دیر کسی پابندی کی قائل نہ ہو سکی۔ پھر گاؤں میں سبزی کا کاروبار شروع کیا، مگر گردشِ ایام نے یہاں بھی کامیابی کا در وا نہ کیا۔ بعد ازاں مٹور میں پی سی او قائم کیا، مگر مزاج کی بے نیازی اور یرقان جیسے موذی مرض کی شدت نے انہیں یہ سلسلہ بھی ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہی مرض بالآخر ان کا پیامِ اجل بن گیا، اور 29 مارچ 2001ء کو پوٹھوہار کا یہ درد آشنا شاعر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ آج وہ اپنے آبائی گاؤں تلنی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، مگر ان کا نغمۂ حزیں آج بھی اہل ذوق کے دلوں میں گونج رہا ہے۔ سائیں محفوظؒ کی شخصیت سرتاپا درویشانہ تھی۔ وہ شہرت و نام و نمود کے طالب نہ تھے، یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی میں نہ تو اپنا کلام مرتب کر سکے اور نہ ہی کوئی شعری مجموعہ منظرِ عام پر لا سکے۔ نتیجے کے طور پر ان کا بیشتر سرمایۂ فکر وقت کی دھول میں اوجھل ہو گیا۔ اگر ان کے بکھرے ہوئے اشعار کو سلیقے سے یکجا کر لیا جائے تو بلا شبہ پوٹھوہاری ادب کا ایک گراں قدر اور نایاب ذخیرہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ ان کے حلقۂ تلمذ کے بارے میں مستند معلومات محدود ہیں۔ دستیاب روایات کے مطابق راجہ علی اصغر پروانہ (موضع کھلول) ان کے قلمی شاگرد ہیں۔ انہی کے توسل سے معلوم ہوتا ہے کہ بیول سے تعلق رکھنے والے ایک اور سخن ور بھی ان سے شرفِ تلمذ رکھتے تھے، تاہم ان کا اسمِ گرامی فی الوقت پردۂ خفا میں ہے۔ سائیں محمد محفوظؒ کو عوامی مقبولیت و دوام ان کے اس لازوال اور تاریخی کلام نے عطا کیا، جو بے ثباتیِ دنیا اور انسان کی اصل منزل کا ایسا صورِ اسرافیل ہے کہ سننے والا بے اختیار خود احتسابی کے عالم میں ڈوب جاتا ہے مسافراں سفر نوں جان کارن انتظام کر لے، شاماں پے گئیاں گزرن واسطے راہ پر خطر وچوں اہتمام کر لے، شاماں پے گئیاں تینوں کسے نی آکھناں جان ویلے اج قیام کر لے، شاماں پے گئیاں ویلے ہتھ نہی فیر محفوظ آنا راضی شام کر لے، شاماں پے گئیاں یہ اشعار محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ زیست کا ایک مکمل اور عمیق فلسفہ ہیں۔ شاعر انسان کو بیدار کرتا ہے کہ حیات کا سورج غروب ہونے سے پہلے اپنے سفرِ آخرت کی تیاری کر لو، کیونکہ جب شام کی تیرگی اتر آتی ہے تو پھر تلافی اور واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ آج جب پوٹھوہاری ادب کی تاریخ کی تدوینِ نو ہو رہی ہے، تو سائیں محمد محفوظؒ جیسے گمنام مگر عہد ساز فنکاروں کو نظر انداز کرنا اپنی علمی و ثقافتی میراث کے ساتھ سخت زیادتی ہوگی۔ ان کے منتشر کلام کو یکجا کرنا، تحقیقی و تنقیدی نظر سے شائع کرنا اور ان کی فکر کو نئی نسل تک منتقل کرنا تمام اہل قلم کی ملّی و ادبی ذمہ داری ہے۔ یقیناً آنے والا وقت اس درویش منش شاعر کی قدر و منزلت کو تاریخ کے جلی حروف میں ثبت کرے گا۔ ماخذ: اس مضمون کی بنیادی معلومات چوہدری نعمان آف چوک پنڈوڑی (ایڈمن، کاروانِ ادب انٹرنیشنل) کی فراہم کردہ معلومات اور زبانی روایات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ راقم نے انہیں ادبی، تحقیقی اور اسلوبیاتی سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ راقم السطور: سائیں ظہور قریشی آف مندرہ (بانی و سرپرستِ اعلیٰ: کاروانِ ادب انٹرنیشنل)

وطن کاسپاہی، عالمِ دین اور خاموش شاعر دلدار اختر قریشی بھورہ نصیب۔۔۔ تحصیل کہوٹہ کی ان خوب صورت پہاڑی بستیوں میں سے ایک، جہاں زمین کا حسن اپنی سادگی میں بھی دل کو چھو لیتا ہے۔ کہیں ناہموار پہاڑ، کہیں اونچے نیچے ٹیلے، کہیں چٹانوں سے پھوٹتے آبشاروں کے شفاف چشمے اور کہیں جھرنوں کی مترنم آوازیں۔۔۔ قدرت نے اس خطے کو حسنِ فطرت کے ایسے رنگ عطا کیے ہیں جو پوٹھوہار کی پہچان بن جاتے ہیں۔ مگر کسی خطے کی اصل پہچان صرف اس کے پہاڑ، دریا، جھرنے اور وادیاں نہیں ہوتیں؛ اصل پہچان وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس مٹی میں جنم لیتے ہیں اور اپنے کردار سے اس دھرتی کے نام کو معتبر بناتے ہیں۔ دلدار اختر قریشی المعروف قاضیؔ دلدار اختر قریشی بھی اسی مٹی کے ایک ایسے فرزند تھے، جن کی شخصیت میں بیک وقت دین کی روشنی، وطن کی محبت، سپاہیانہ جرأت، خدمت کا جذبہ اور شاعرانہ حساسیت جمع تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زندگی کو نمائش نہیں، ذمہ داری سمجھ کر گزارا۔ قریشی ہاشمی خانوادے کا چراغ دلدار اختر قریشی یکم فروری 1944ء کو ڈھوک، داخلی بھورہ نصیب، تحصیل کہوٹہ میں قاضی محمد صدیق کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ قریشی ہاشمی خاندان کے چشم و چراغ اور پانچ بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے تھے۔ بڑے ہونے کا منصب محض عمر کی سبقت نہیں ہوتا؛ یہ گھر کے دکھ سکھ میں شریک ہونے، چھوٹوں کے لیے سایہ بننے اور خاندان کی روایات کو آگے بڑھانے کی ایک خاموش ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ دینی تربیت کا آغاز اپنے دادا محترم مولوی لال دین ہاشمی سے کیا۔ یہی ابتدائی تربیت آگے چل کر ان کی شخصیت کا بنیادی ستون بنی۔ دین ان کے لیے صرف علم کا موضوع نہیں تھا بلکہ زندگی کا ایک عملی حوالہ تھا۔ دنیاوی تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول تھوہا خالصہ سے حاصل کی اور بعد ازاں رسالپور کینٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ یہ تعلیم آگے چل کر انہیں زندگی کے مختلف میدانوں میں لے گئی، مگر ان کی شخصیت میں دین اور دنیا کے درمیان ایک خوب صورت توازن ہمیشہ قائم رہا۔ جب قلم کا آدمی بندوق اٹھا کر محاذ پر گیا 1969ء میں دلدار اختر قریشی نے انجینئر کور، رسالپور کینٹ میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ سپاہی بننا صرف وردی پہن لینا نہیں؛ یہ اپنے آرام، اپنی خواہشات اور کبھی کبھی اپنی جان تک کو وطن کے نام کر دینے کا عہد ہے۔ 1971ء میں جب وطن پر جنگ کے بادل چھائے تو قاضیؔ دلدار اختر قریشی بھی چھمب جوڑیاں کے محاذ پر پہنچے۔ میدانِ جنگ میں انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور غازی کی حیثیت سے واپس لوٹے۔ یہ ان کی زندگی کا ایسا باب تھا جس میں ایک طرف مستقبل کا شاعر موجود تھا اور دوسری طرف وطن کی سرحد پر کھڑا ایک سپاہی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں نرمی اور جرأت ساتھ ساتھ دکھائی دیتی ہے؛ زبان میں شعر کی مٹھاس، مزاج میں دین کی متانت اور کردار میں سپاہی کی مضبوطی۔ قاضیؔ دلدار اختر قریشی — جس نے شعر کو شہرت نہیں، عقیدت بنایا شاعری کی طرف میلان ہوا تو مفکرِ پوٹھوار محمد انور فراق قریشی سے متاثر ہوئے اور شعر کہنا شروع کیا۔ البتہ ان کی شعری نسبت کے حوالے سے مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض روایات انہیں سائیں عبدالرحمان فقیر مست، سکنہ باغ بھلاکھر کا شاگرد قرار دیتی ہیں، جبکہ ان کے سکول کے استاد ماسٹر شریف نثار مرحوم بھی استاد ہونے کے ناتے انہیں اپنا شاگرد کہتے رہے۔ تاہم اس بارے میں خود قاضیؔ کی کوئی واضح ذاتی رائے دستیاب نہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی حسن اختر، جو خود پوٹھوہاری شعر خوان ہیں اور محمد زبیر قریشی کے شاگرد ہیں، کے مطابق دلدار اختر قریشی باقاعدہ طور پر کسی ایک استاد کے تلامذہ میں شامل نہیں ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قاضیؔ کی شاعری کو کسی ایک ادبی نسبت کے خانے میں بند کرنا آسان نہیں۔ ان کا شعر ان کے اپنے دینی شعور، قلبی کیفیت اور مشاہدے سے پھوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ شاعر جو مشاعرے میں کبھی نہ گیا قاضیؔ دلدار اختر قریشی کی شخصیت کا ایک نہایت منفرد پہلو یہ ہے کہ وہ شاعر ہونے کے باوجود مشاعروں کی دنیا سے دور رہے۔ ان کی بنیادی شناخت ایک عالمِ دین کی تھی۔ بچپن ہی سے نمازِ تراویح اور امامت کے فرائض ادا کرتے رہے۔ دینی اجتماعات میں شریک ہوئے، مذہبی ذمہ داریاں نبھائیں، مگر اپنے شعری ذوق کو کبھی شہرت کے بازار میں نہیں لے گئے۔ آج کے عہد میں جب شاعر کی شناخت اکثر مشاعرے کی داد، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور نام کی تشہیر سے کی جاتی ہے، قاضیؔ کی شاعری ایک مختلف مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ شعر کہتے تھے، مگر داد کے لیے نہیں۔ وہ لکھتے تھے، مگر نام کے لیے نہیں۔ وہ اپنے دل کی کیفیت کو لفظ دیتے تھے، اور پھر خاموش ہو جاتے تھے۔ یہی خاموشی شاید ان کی شاعری کا سب سے بڑا حسن ہے۔ عشقِ رسول ﷺ — قاضیؔ دلدار اختر قریشی کے کلام کا روشن باب قاضیؔ دلدار اختر قریشی کے کلام کا یہ نمونہ ان کے قلبی اور دینی مزاج کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے: «کہیا قلم نوں شانِ رسول لکھ دے کیندی میرے وچ ہمت جناب نہ رہئی لکھاں صفت محمد دی، اور کیوں جے کیا میں لکھدی عربی کتاب نہ رہئی گئے جس رات حضور معراج کارن اس رات میں بھی محوے خواب نہ رہئی اگے ہوئی ہاں قاضی اک وار زخمی صفتِ میم ہن لکھن دی تاب نہ رہئی» یہ محض نعتیہ اشعار نہیں؛ یہ ایک ایسے دل کی عاجزی ہے جو محبوبِ خدا ﷺ کی شان بیان کرنے کے لیے قلم اٹھاتا ہے، مگر الفاظ کی کمی محسوس کرکے خود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ “صفتِ میم ہن لکھن دی تاب نہ رہئی” یہ مصرع شاعر کے عجز کی آخری حد کو چھوتا ہے۔ جہاں لفظ ختم ہو جائیں اور عقیدت باقی رہ جائے، وہیں سے شاید سچی نعتیہ کیفیت جنم لیتی ہے۔ ازدواجی زندگی اور خاندان 1971ء میں آپ کی شادی اپنے خاندان میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ آپ کے بڑے صاحبزادے قاضی اسد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہوٹہ میں ملازمت سے وابستہ ہیں۔ گھریلو زندگی میں بھی قاضیؔ نے اپنی ذمہ داریاں اسی خاموش وقار سے نبھائیں جس کے وہ زندگی بھر امین رہے۔ وردی اتری، خدمت کا سفر جاری رہا 1984ء میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد قاضیؔ کی زندگی میں ایک نیا باب شروع ہوا، مگر خدمت کا سفر ختم نہ ہوا۔ تقریباً چھ سال تک مرکزی جامع مسجد بھورہ حیال میں جمعہ پڑھایا اور خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر 1990ء میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہوٹہ میں لیبارٹری اٹینڈنٹ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور تادمِ مرگ اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ یوں ان کی زندگی کے مختلف ادوار کو دیکھا جائے تو ایک خوب صورت تسلسل سامنے آتا ہے: فوج میں وطن کی خدمت، مسجد میں دین کی خدمت، ہسپتال میں انسانیت کی خدمت، اور قلم کے ذریعے ادب کی خدمت۔ یہ چاروں راستے بظاہر مختلف تھے، مگر منزل ایک ہی تھی — خدمت۔ سیاست میں بھی فعال کردار دلدار اختر قریشی سماجی اور سیاسی طور پر بھی متحرک رہے۔ آپ جماعتِ اسلامی تحصیل کہوٹہ کے جنرل سیکرٹری اور فعال کارکن رہے۔ اس کے علاوہ پری میڈیکل یونین راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ ان کے سیاسی و سماجی حلقۂ احباب میں مختلف سیاسی جماعتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل رہیں، جن میں کرنل ظہور اختر، راجہ شاہد ظفر، راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی، کرنل یامین ستی اور حاجی جاوید کلرسیداں کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ یہ تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قاضیؔ نے اختلافِ رائے کو تعلقات کی دیوار نہیں بننے دیا۔ شخصیت کا حاصل کسی انسان کی زندگی کا اصل تعارف اس کے عہدوں کی فہرست نہیں بلکہ اس کے کردار کی خوشبو ہوتی ہے۔ دلدار اختر قریشی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کریں تو ایک ایسی شخصیت سامنے آتی ہے جسے کسی ایک عنوان میں محدود کرنا ممکن نہیں۔ وہ قریشی ہاشمی خانوادے کے فرزند تھے۔ وہ پاک فوج کے سپاہی اور جنگِ 1971ء کے غازی تھے۔ وہ عالمِ دین اور امام و خطیب تھے۔ وہ پوٹھوہاری شاعر قاضیؔ تھے۔ وہ ہسپتال کے ملازم تھے۔ وہ سیاسی و سماجی کارکن تھے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسے انسان تھے جس نے زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی۔ کچھ لوگ کتاب نہیں، خود ایک کتاب ہوتے ہیں بعض لوگ اپنی زندگی میں اتنا کچھ چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کی سوانح لکھتے ہوئے قلم بار بار رک جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ الفاظ کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ زندگی بہت زیادہ ہے۔ قاضیؔ دلدار اختر قریشی بھی انہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں جنگ بھی ہے اور امن بھی، مسجد بھی ہے اور میدان بھی، ہسپتال بھی ہے اور سیاست بھی، قلم بھی ہے اور عبادت بھی۔ مگر ان سب کے درمیان ایک چیز مستقل رہی: خاموش خدمت۔ انہوں نے اپنے لیے راستے نہیں بنائے؛ جو راستہ سامنے آیا، اسے ذمہ داری سمجھ کر طے کرتے گئے۔ شاید اسی لیے ان کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ: کچھ لوگ اپنی زندگی میں شہرت کماتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنی زندگی کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنا جاتے ہیں۔ دلدار اختر قریشی قاضیؔ کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ حرفِ آخر آج جب ہم تذکرۂ اہلِ کمال کے صفحات میں قاضیؔ کا نام رقم کرتے ہیں تو دراصل ہم صرف ایک شاعر کا تذکرہ نہیں کر رہے؛ ہم ایک ایسے عہد کے ایک ایسے کردار کو محفوظ کر رہے ہیں جس میں دین، وطن، ادب، خدمت اور انسانیت ایک ہی شخصیت میں جمع تھے۔ بھورہ نصیب کی وہ پہاڑی زمین آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ وہ جھرنے آج بھی بہتے ہوں گے۔ وہ ٹیلے آج بھی خاموش کھڑے ہوں گے۔ مگر ان پہاڑیوں کے درمیان کبھی ایک ایسا شخص بھی رہا تھا جس نے وطن کی سرحد پر فرض نبھایا، مسجد میں لوگوں کی رہنمائی کی، ہسپتال میں خدمت کی، معاشرے میں اپنا کردار ادا کیا اور پھر خاموشی سے اپنے دل کی بات شعر میں کہہ دی۔ یہی لوگ کسی خطے کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ قاضیؔ دلدار اختر قریشی چلے گئے، مگر ان کا کردار باقی ہے؛ ان کی آواز خاموش ہوئی، مگر ان کا کلام باقی ہے؛ اور ان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ان کی داستانِ خدمت باقی ہے۔ یہی اہلِ کمال کی اصل میراث ہے۔ تحقیق و ترتیب: چوہدری نعمان راقم السطور: سائیں ظہور قریشی

اقلیمِ سخن کامستور ماہتاب, پوٹھوہار کا نوحہ گرِ فطرت مٹی کی سوندھی خوشبو سے لاہوت کے سفر تک تخلیق کے اسرارِ نہاں اور فکر کے بطون میں کچھ ایسی نابغہ روزگار شخصیات جنم لیتی ہیں جن کا خمیر تو مٹی کی سوندھی خوشبو اور زمینی رشتوں سے اٹھتا ہے، مگر ان کے طائرِ فکر کی پرواز لاہوتی اور ماورائی ہوتی ہے۔ خطہ پوٹھوہار—جو اپنی عسکری شجاعت، مٹی کی زرخیزی اور تخلیقی ابال کے لیے روزِ اول سے مبرہن اور زرخیز رہا ہے—اسی مردم خیز زمین کی کوکھ سے ایک ایسی ہی صاحبِ طرز اور درویش صفت شخصیت نے جنم لیا، جنہیں دنیائے ادب قریشی غضنفر علی دکھی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ وہ محض ایک روایتی قافیہ پیما یا بحور کے اسیر شاعر نہ تھے، بلکہ سوزِ دروں، نغمہ سرمدی اور رقتِ قلبی کے ایک ایسے ہم رکاب تھے جنہوں نے حرف و صوت کو تقدس کا پیراہن عطا کیا اور کلام کو الہامی کیفیات سے آشنا کیا۔ نسبتی و فکری پس منظر: نور علیٰ نور کا مطلع قریشی غضنفر علی دکھی کی نشوونما اور فکری نمو ایک ایسے علمی، ادبی اور روحانی گہوارے میں ہوئی جہاں فکر و نظر کی تطہیر اور روح کی صیقل پہلی ترجیح تھی۔ آپ تحصیل کلر سیداں کے تاریخی، تہذیبی اور مردم خیز نواحی گاؤں 'درکالی شیر شاہی' کے جلیل القدر عالمِ دین، زہد و تقویٰ کے پیکر مولانا عبدالرزاق قریشی کے لختِ جگر تھے۔ یہ وہ آستانہ علم تھا جہاں فصاحتِ لسان اور بیباکیِ گفتار ورثے میں ملتی ہے۔ مزید برآں، آپ کو پوٹھوہار کے جادو بیاں مفکر، قادر الکلام سخن ور اور بے مثل ادیب مفکر پوٹھوہار محمد انور فراق قریشی کی بھانجگی اور تلمذ کا شرف حاصل رہا۔ یہ فکری اتصال گویا "نور علیٰ نور" کا مصداق تھا؛ جہاں ایک طرف خانقاہی جلال اور علمی وقار تھا، تو دوسری طرف شعری و ادبی جمال کی فراوانی تھی۔ اسی دوجہتی فیضان نے غضنفر علی دکھی کے شعور کو وہ صیقل فراہم کی جس نے آگے چل کر ان کے لفظ لفظ کو کندن اور ہر مصرعے کو لازوال بنا دیا۔ دورِ حیات: بیرکوں کی تنہائی سے مشقِ سخن تک اگست 1950 میں درکالی شیر شاہی کی بزمِ ہستی میں آنکھ کھولنے والے اس درویش منش شاعر نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مسکن ہی سے حاصل کی۔ پرائمری سے میٹرک تک کا یہ دورِ طالب علمی دراصل ان کے شعری بطون کی بیداری اور وجدان کا زمانہ تھا۔ شعری ذوق فطرت کی طرف سے ودیعت کردہ وہ چنگاری تھا جو وقت کی تپش کے ساتھ ایک شعلہۂ جوالہ بن کر ابھرا۔ معاشی بقا اور حبِ وطنی کے لازوال جذبے سے سرشار ہو کر آپ نے 'پاک آرمی' کے شعبے کا انتخاب کیا۔ ایک سپاہی کی کٹھن زندگی، آہنی ڈسپلن کی سختی اور بیرکوں کی تنہائی عام طور پر لطیف جذبات کو منجمد کر دیتی ہے، مگر دکھیؔ کا تخلیقی چشمہ دشتِ غربت اور ایامِ ملازمت کی صعوبتوں میں بھی پوری طغیانی اور ابال کے ساتھ بہتا رہا۔ انہوں نے بندوق کی گرج اور عسکری فرائض کے مابین بھی قلم کی آبرو کو مقدم رکھا اور دمِ آخر تک، جب تک نبضِ حیات چلتی رہی، قرطاس و قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا۔ شعری جہات: اصناف پر حاکمانہ دسترس قریشی غضنفر علی دکھی کا میدانِ سخن نہایت وسیع، عمیق اور کثیر الجہات تھا۔ اگرچہ انہوں نے اردو غزل کو اپنی فکری جولان گاہ بنایا اور اس صنفِ نازک میں غایت درجے کا اچھوتا پن اور تغزل پیدا کیا، لیکن ان کا اصل کمال اور فنی عروج ان کے چومصرعوں (رباعیات و قطعات) میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے ہندکو، پوٹھوہاری اور اردو زبان کے حسین امتزاج سے چومصرعوں کی صنف کو وہ اسلوب اور حلاوت بخشی جو عام روایتی شعرا کے ہاں ناپید ہے۔ ان کی شاعری کے موضوعات میں جہاں ایک طرف صوفیانہ تڑپ، الہیاتی عشق اور معرفت کا بحرِ بے کنار موجزن ہے، وہاں دوسری طرف معاشرتی اکھاڑ پچھاڑ، فکری جمود پر تازیانے اور انسانی نفسیات کے عمیق مشاہدات بھی ملتے ہیں۔ نمونہۂ کلام کا فکری و فنی محاکمہ ۱۔ مناجات: بارگاہِ الٰہی میں عجز کا کمل التجا ہے رب جلیل اگے میری کھوٹی تقدیر نوں کھری کر دے ابر کرم برسا کے نال رحمت کھیتی خشک امیداں دی ہری کر دے جس دی ملے نہ کوئی مثال ہرگز بے مثال میری سخنوری کر دے دکھی سارے گناہاں تے پا پردہ روزِ محشر میدان وچ بری کر دے یہ قطعہ بارگاہِ الٰہی میں عجز و انکسار کا وہ شاہکار ہے جہاں ایک سچا تخلیق کار اپنی 'سخنوری' کی بے مثالی کے لیے بھی کسی دنیاوی جاہ و حشم کا نہیں، بلکہ رب کی رحمت کا متقاضی ہے۔ "خشک امیداں دی کھیتی" کو ہرا کرنے کا استعارہ ان کی داخلی تنہائی، دردمندی اور امیدِ پیہم کا عکاس ہے۔ ۲۔ نقدِ معاشرت: فکری تازیانہ اور نقدِ عصر جھٹ قالو بلیٰ تے کہہ دتا اے پر شرک دی تیرے تھیں بوُ نہ گئی اک وسیا نہ تیرے من اندر تے تلاش تیری چار سو نہ گئی بیٹھ گیا ایں غیر دا پھڑ دامن آخر تک حالت گو مگو نہ گئی مسلمان تے دکھی کہلان لگا قوم ِعادو ثمود دی خوُ نہ گئی یہ چومصرعہ فکرِ اقبال کا تسلسل محسوس ہوتا ہے، جہاں منافقتِ عصر اور کھوکھلے مذہبی دعووں پر کڑی فکری ضرب لگائی گئی ہے۔ انسان کا "قالو بلیٰ" (اقرارِ توحید) کرنا مگر عملاً غیروں کا دامن تھامنا، اور خود کو مسلمان کہلا کر بھی "قومِ عاد و ثمود" کی سرکشی کو دل سے نہ نکال پانا، ان کے گہرے قرآنی مطالعے، آفاقی شعور اور بیباک اسلوبِ بیاں کی بین دلیل ہے۔ ۳۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ: ندرتِ بیان اور حُسنِ عقیدت جیڑے ہتھ پے بت تراشدے سن اُنھاں ہتھاں دے نقش سنوارے آقا اُٹھن لگے اوہ ہتھ دربار حقدے رنگ ہستی وچ جسدم کھلارے آقا جو ٹٹولدے بحر ظلمات وچ سن پکڑ ہتھ اوہ لائے کنارے آقا دکھی جھوٹے آقاواں دی بس ہو گئی آئے دنیا وچ جسدم ہمارے آقا یہ نعتِ پاک فصاحتِ لسانی اور بلاغت کا اوج ہے۔ بت تراشنے والے ہاتھوں کا دربارِ حق میں بلند ہونا اور نقشِ انسانیت کا سنور جانا، کائنات کے سب سے بڑے فکری و سماجی انقلاب کی خوبصورت شعری تعبیر ہے۔ "جھوٹے آقاواں دی بس ہو گئی" کہہ کر دکھیؔ نے کائنات کے واحد سچے ہادی، سرورِ کون و مکاں ﷺ کی آفاقیت کو جس سادگی، پرکاری اور والہانہ پن سے بیان کیا ہے، وہ انہی کا حصہ ہے۔ غروبِ آفتاب: لایموت حرف کا سفرِ دوام افسوس کہ ادب کے افق پر چمکنے والا یہ ستارہ 29 دسمبر 1994 کو محض 44 سال کی بھرپور تخلیقی عمر میں، بزمِ جہاں کو سوگوار چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور درکالی شیر شاہی کی اسی مٹی کا پیوند بن گیا جس سے اس کا تخلیقی خمیر اٹھا تھا۔ مگر قانونِ قدرت ہے کہ سچا تخلیق کار کبھی مرتا نہیں؛ وہ اپنے حرفِ زندہ کی بدولت زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہو کر لایموت ہو جاتا ہے۔ یہ امر انتہائی لائقِ تحسین، لائقِ صد رشک اور باعثِ طمانیت ہے کہ ان کے ہونہار اور علم پرور صاحبزادے معین اختر قریشی نے اپنے عظیم والد کے اس بکھرے ہوئے فکری سرمائے، نوادرات اور مسودات کو نہ صرف مٹنے سے محفوظ کیا، بلکہ اسے ایک گراں قدر کتابی شکل میں ترتیب دے کر اشاعت کے مراحل تک پہنچا دیا ہے۔ اردو، پوٹھوہاری اور ہندکو کلام پر مشتمل یہ مجموعہ جب زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئے گا، تو یہ یقیناً خطہۂ پوٹھوہار کے ادبی وقار اور تاریخ میں ایک گراں قدر، ناگزیر اضافہ اور دکھیؔ کی روح کے لیے ایک دائمی، لازوال خراجِ عقیدت ثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس سخن ورِ باکمال، نوحہ گرِ فطرت کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، اور ان کے خَلَفُ الرَّشِيد معین اختر قریشی کو اس علمی امانت کی ترویج و اشاعت میں سرخرو کرے۔ آمین، یا رب العالمین۔ راقم السطور سائیں ظہور قریشی آف مندرہ
محسنِ پوٹھوہار ماسٹر محمد دلپذیر شاد ایک عہد، ایک دبستان، ایک روشن روایت سرزمینِ پوٹھوہار محض پہاڑوں، وادیوں، چشموں اور قدیم بستیوں کا نام نہیں؛ یہ ایک ایسی تہذیبی سرزمین ہے جس کی مٹی نے صدیوں سے شمشیر کے ساتھ سخن، روایت کے ساتھ فکر اور تاریخ کے ساتھ ادب کو بھی جنم دیا ہے۔ اس خطے کی بستی بستی میں کوئی نہ کوئی داستانِ حیات پوشیدہ ہے اور گاؤں گاؤں میں ایسے کردار ملتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی پیشانی پر اپنے فن کی روشن تحریر ثبت کی۔ کلرسیداں بھی اسی تابناک ادبی روایت کا ایک معتبر باب ہے۔ یہاں شعر نے زندگی کی زبان سیکھی، لوک روایت نے لفظوں کا جامہ پہنا اور اہلِ قلم نے پوٹھوہار ی کی تہذیبی شناخت کو اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ اسی ادبی کہکشاں میں ایک ایسا نام بھی ہے جسے محض شاعر کہنا اس کی شخصیت کو محدود کرنا ہے۔ ماسٹر محمد دلپذیر شاد وہ سخنور تھے جنہوں نے پوٹھوہار کو صرف شاعری میں نہیں برتا بلکہ اسے اپنی فکر، صحافت، تدریس، سماجی خدمت اور ادبی جدوجہد کا موضوع و مقصد بنایا۔ وہ شاعر بھی تھے، ادیب بھی؛ معلم بھی تھے، صحافی بھی؛ منتظم بھی تھے اور پوٹھوہاری تہذیب و زبان کے ایسے پاسبان بھی جنہوں نے اپنے عہد میں اس خطے کی آواز کو بڑے ادبی اور ابلاغی مراکز تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ محمد دلپذیر شاد 10 جنوری 1941ء کو فضل الٰہی مرحوم کے گھر موہڑہ راجوال، تھوہا خالصہ، تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم تھوہا خالصہ میں حاصل کی اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول کلرسیداں سے 1957ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ میٹرک کیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ان کے اندر کا شاعر بیدار ہوا۔ لفظ ان کے لیے محض اظہار کا وسیلہ نہ رہے بلکہ رفتہ رفتہ ان کی زندگی کا حوالہ بن گئے۔ 1959ء میں لاہور کالج سے ایف اے اور 1960ء میں ایس وی کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1962ء میں سرکاری شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوئے۔ پھر زندگی کا ایک طویل حصہ درس و تدریس کے نام کر دیا۔ مختلف سرکاری سکولوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے انہوں نے نسلوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ علم، تہذیب اور کردار کا مفہوم بھی سمجھایا۔ یکم ستمبر 1990ء کو بطور استاد ریٹائر ہوئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل تدریس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہی؛ کیونکہ ان کی تحریر، شاعری اور ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک مسلسل درس گاہ بن گئیں۔ دلپذیر شاد کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو صحافت سے ان کی وابستگی ہے۔ کلرسیداں سے شائع ہونے والے پہلے ہفت روزہ "سنگِ پوٹھوہار" کا اجرا 16 جون 1989ء کو ہوا اور اس کی اشاعت 2007ء تک جاری رہی۔ یہ محض ایک اخبار نہ تھا بلکہ پوٹھوہار کے فکری، ادبی اور تہذیبی شعور کا ایک ترجمان تھا۔ ایسے دور میں جب علاقائی زبانوں اور مقامی ادبی سرگرمیوں کے لیے ذرائع محدود تھے، "سنگِ پوٹھوہار" جیسے پلیٹ فارم کا قیام ایک فرد کی کاوش سے بڑھ کر ایک تہذیبی خدمت تھی۔ ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے معروف پروگرام "جمہور نی واز" سمیت "آکھو تے آکھاں" اور "چلتا پھرتا مائیکرو فون" جیسے پروگراموں میں ان کی شرکت نے انہیں پوٹھوہاری ادب کی آواز کو وسیع حلقوں تک پہنچانے کا موقع دیا۔ جب پی ٹی وی چکلالہ کا آغاز ہوا تو انہوں نے ٹیلی وژن اور ریڈیو کے ذریعے پوٹھوہار کے شعرائے کرام کو متعارف کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ کام معمولی نوعیت کا نہ تھا؛ کیونکہ کسی خطے کے شاعر کو قومی سطح کے ابلاغی اداروں تک پہنچانا دراصل اس خطے کی زبان، ثقافت اور اجتماعی شناخت کو قومی منظرنامے پر جگہ دلانا ہوتا ہے۔ کلرسیداں کے مشاعروں کی نظامت ہو یا قومی و دینی مواقع کی ادبی تقریبات، دلپذیر شاد ہر جگہ ایک فعال اور متحرک کردار کے طور پر موجود رہے۔ ان کی شخصیت میں شاعر کی لطافت اور منتظم کی متانت ایک ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ ملکی سطح کے نامور شعراء کو کلرسیداں کی ادبی محفلوں میں مدعو کرنا اور مقامی ادیبوں و شعراء کو ان کے ساتھ ایک ہی صف میں بٹھانا ان کے وسیع ادبی ظرف کی علامت تھا۔ عالمی ادبی تنظیم پنجابی کانگریس کے پوٹھوہار سے مستقل رکن کی حیثیت سے بھی انہوں نے اس خطے کی نمائندگی کی۔ مشاعروں کے سلسلے میں بھارت کا سفر کیا اور یوں پوٹھوہاری سخن کو سرحدوں سے آگے لے جانے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف ادبی، سماجی اور سرکاری اداروں کی جانب سے 24 سے زائد اعزازات سے نوازا جانا اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی خدمات کسی ایک میدان یا ایک ادارے تک محدود نہیں تھیں۔ ماسٹر دلپزیر شاد صاحب کی تصانیف ان کے وسیع مطالعے، فکری تنوع اور تخلیقی مزاج کی گواہی دیتی ہیں۔ "انمول سخن"، "بکھرے موتی"، "شہادتِ حسینؑ"، "سانجھے سیک"، "پاک وطن دی خاطر لہو"، "ویلے نی اکھ"، "پوٹھوہاری لغات"، "خوابوں کا شہرِ کرم"، "شانِ اولیاء"، "اردو غزل کا پوٹھوہاری رنگ"، "کملی والے محمد ﷺ" اور "حبیبِ خدا" جیسے عنوانات اس بات کے شاہد ہیں کہ ان کے قلم نے عشق، عقیدت، وطن، زبان، لوک روایت، صوفیانہ فکر اور انسانی جذبات کو مختلف پیرایوں میں چھوا۔ ان کے ہاں پوٹھوہار محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس ہے۔ وہ اپنی شناخت کو چھپاتے نہیں بلکہ فخر سے بیان کرتے ہیں: پنڈی ضلع کہوٹہ تحصیل میری اے ملک اسلامی پاکستان میرا مرکز مشہور پوٹھوہار دا اے قصبہ خاص کلرسیداں میرا خاص ڈاکخانہ کمترین دا اے مغل قوم رکھدا خاندان میرا ہے نام محمد دلپذیر بندیا نالے شاد تخلص پہچان میرا یہ چند مصرعے دراصل ان کی پوری شخصیت کا مختصر تعارف بھی ہیں اور پوٹھوہار سے ان کی والہانہ وابستگی کا منشور بھی۔ یہاں شاعر اپنے نام کے ساتھ اپنی مٹی کا نام لکھتا ہے، اپنی تحصیل کا حوالہ دیتا ہے، اپنے قصبے کو اپنی شناخت بناتا ہے اور اپنے تخلص "شاد" کو اپنے شعری وجود کی پہچان قرار دیتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو کسی شاعر کو محض شاعر سے بڑھا کر اپنے خطے کا نمائندہ بنا دیتی ہے۔ محمد دلپذیر شاد 9 ذوالحجہ، بمطابق 23 ستمبر 2015ء، بروز بدھ، اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ مگر اہلِ قلم کی موت ان کے جسم کے ساتھ ہوتی ہے، ان کے لفظوں کے ساتھ نہیں۔ ایسے لوگ اپنے بعد کتابیں چھوڑتے ہیں، یادیں چھوڑتے ہیں، شاگرد چھوڑتے ہیں، روایت چھوڑتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنے خطے کے حافظے میں ایک ایسا روشن چراغ چھوڑ جاتے ہیں جس کی روشنی آنے والی نسلیں بھی محسوس کرتی رہتی ہیں۔ آج جب ہم پوٹھوہار کی ادبی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو دلپذیر شاد ایک ایسے باب کی صورت میں سامنے آتے ہیں جسے نظرانداز کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے شاعری کی، مگر صرف شاعری نہیں کی؛ انہوں نے پڑھایا، مگر صرف سبق نہیں پڑھایا؛ انہوں نے صحافت کی، مگر صرف خبر نہیں لکھی؛ انہوں نے مشاعرے سجائے، مگر صرف محفل نہیں سجائی—انہوں نے اپنے عہد میں پوٹھوہار کی زبان، ثقافت اور ادبی شناخت کی حفاظت اور ترویج کا فریضہ ادا کیا۔ اسی لیے ماسٹر محمد دلپذیر شاد کو یاد کرنا دراصل پوٹھوہار کی ایک پوری ادبی روایت کو یاد کرنا ہے۔ وہ ایک فرد نہیں، ایک حوالہ تھے؛ ایک شاعر نہیں، ایک دبستان تھے؛ ایک معلم نہیں، ایک نسل ساز تھے؛ اور ایک ادیب نہیں، اپنی مٹی کی آواز تھے۔ پوٹھوہار جب بھی اپنی ادبی تاریخ کا آئینہ دیکھے گا، اس آئینے میں محمد دلپذیر شاد کا چہرہ ضرور دکھائی دے گا۔ یہی ان کا اعزاز ہے، یہی ان کی میراث اور یہی ان کے فن کی اصل زندگی ہے۔ راقم السطور سائیں ظہور قریشی آف مندرہ

محمد اسلم قریشی پوٹھوہار کے نمایاں شاعر ہیں۔ یہ اندراج ڈیمو مواد ہے۔
