کاروانِ ادب انٹرنیشنلکاروانِ ادب انٹرنیشنل
صفحہ اول

سائیں محمد محفوظؒ

سائیں محمد محفوظؒ

کہوٹہ

سائیں محمد محفوظؒ — شام ڈھلنے سے پہلے منزل یاد دلانے والا شاعر پوٹھوہار کی مردم خیز دھرتی صدیوں سے ایسے درویش صفت انسانوں کی آماج گاہ رہی ہے جنہوں نے نہ اقتدار کے ایوانوں میں نام و نمود کی تمنا کی، نہ مال و زر کے انبار جمع کیے، بلکہ اپنے اعلیٰ کردار، قلبی درد اور فکر انگیز کلام سے دلوں پر ایسی لازوال حکمرانی قائم کی کہ وقت کی گرد بھی ان کے نقوشِ پا کو دھندلا نہ سکی۔ انہی خاموش مگر فروزاں چراغوں میں ایک تابندہ نام سائیں محمد محفوظؒ کا بھی ہے، جنہوں نے مختصر حیاتِ مستعار میں فکر و فن کا ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ آج بھی ان کا کلام ہزاروں سوگوار دلوں کی ترجمانی کر رہا ہے۔ سائیں محمد محفوظؒ 1953ء میں کرم داد کے گھر، موضع تلنی (مٹور، تحصیل کہوٹہ) میں جلوہ آرا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مٹور کے اسکول سے حاصل کی جبکہ دینی علوم کی تشنہ کامی اپنے آبائی گاؤں کے مکتب میں بجھائی۔ قدرت نے انہیں بلا کی ذہانت اور نکتہ رس فہم سے نوازا تھا، مگر عسرت و تنگ دستی نے تعلیم کی شاہراہ میں سدِ سکندری کھڑی کر دی؛ چنانچہ مڈل کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ منقطع کر کے انہیں عملی زندگی کی خاردار راہوں پر قدم رکھنا پڑا۔ 3 اپریل 1973ء کو انہوں نے پاک فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔ عسکری زندگی نے ان کے مزاج میں نظم و ضبط، خودداری اور عزم و حوصلہ پیدا کیا، مگر لوحِ تقدیر پر ان کے لیے ایک منفرد راستہ رقم تھا۔ تقریباً آٹھ برس وطنِ عزیز کی پاسبانی کے بعد 9 فروری 1981ء کو وہ فوج کی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ بعد ازاں روزگار کی جستجو انہیں دیارِ غیر—سلطنتِ عمان، مسقط اور صلالہ—لے گئی۔ پردیس کی خاک چھانی، مگر حالات سازگار نہ ہو سکے۔ قریب چار برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے اور رزقِ حلال کی تلاش میں آر سی کولا، سہالہ (ہمک) میں ملازمت اختیار کی، لیکن ان کی درویشانہ اور آزاد منش طبیعت زیادہ دیر کسی پابندی کی قائل نہ ہو سکی۔ پھر گاؤں میں سبزی کا کاروبار شروع کیا، مگر گردشِ ایام نے یہاں بھی کامیابی کا در وا نہ کیا۔ بعد ازاں مٹور میں پی سی او قائم کیا، مگر مزاج کی بے نیازی اور یرقان جیسے موذی مرض کی شدت نے انہیں یہ سلسلہ بھی ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہی مرض بالآخر ان کا پیامِ اجل بن گیا، اور 29 مارچ 2001ء کو پوٹھوہار کا یہ درد آشنا شاعر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ آج وہ اپنے آبائی گاؤں تلنی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، مگر ان کا نغمۂ حزیں آج بھی اہل ذوق کے دلوں میں گونج رہا ہے۔ سائیں محفوظؒ کی شخصیت سرتاپا درویشانہ تھی۔ وہ شہرت و نام و نمود کے طالب نہ تھے، یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی میں نہ تو اپنا کلام مرتب کر سکے اور نہ ہی کوئی شعری مجموعہ منظرِ عام پر لا سکے۔ نتیجے کے طور پر ان کا بیشتر سرمایۂ فکر وقت کی دھول میں اوجھل ہو گیا۔ اگر ان کے بکھرے ہوئے اشعار کو سلیقے سے یکجا کر لیا جائے تو بلا شبہ پوٹھوہاری ادب کا ایک گراں قدر اور نایاب ذخیرہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ ان کے حلقۂ تلمذ کے بارے میں مستند معلومات محدود ہیں۔ دستیاب روایات کے مطابق راجہ علی اصغر پروانہ (موضع کھلول) ان کے قلمی شاگرد ہیں۔ انہی کے توسل سے معلوم ہوتا ہے کہ بیول سے تعلق رکھنے والے ایک اور سخن ور بھی ان سے شرفِ تلمذ رکھتے تھے، تاہم ان کا اسمِ گرامی فی الوقت پردۂ خفا میں ہے۔ سائیں محمد محفوظؒ کو عوامی مقبولیت و دوام ان کے اس لازوال اور تاریخی کلام نے عطا کیا، جو بے ثباتیِ دنیا اور انسان کی اصل منزل کا ایسا صورِ اسرافیل ہے کہ سننے والا بے اختیار خود احتسابی کے عالم میں ڈوب جاتا ہے مسافراں سفر نوں جان کارن انتظام کر لے، شاماں پے گئیاں گزرن واسطے راہ پر خطر وچوں اہتمام کر لے، شاماں پے گئیاں تینوں کسے نی آکھناں جان ویلے اج قیام کر لے، شاماں پے گئیاں ویلے ہتھ نہی فیر محفوظ آنا راضی شام کر لے، شاماں پے گئیاں یہ اشعار محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ زیست کا ایک مکمل اور عمیق فلسفہ ہیں۔ شاعر انسان کو بیدار کرتا ہے کہ حیات کا سورج غروب ہونے سے پہلے اپنے سفرِ آخرت کی تیاری کر لو، کیونکہ جب شام کی تیرگی اتر آتی ہے تو پھر تلافی اور واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ آج جب پوٹھوہاری ادب کی تاریخ کی تدوینِ نو ہو رہی ہے، تو سائیں محمد محفوظؒ جیسے گمنام مگر عہد ساز فنکاروں کو نظر انداز کرنا اپنی علمی و ثقافتی میراث کے ساتھ سخت زیادتی ہوگی۔ ان کے منتشر کلام کو یکجا کرنا، تحقیقی و تنقیدی نظر سے شائع کرنا اور ان کی فکر کو نئی نسل تک منتقل کرنا تمام اہل قلم کی ملّی و ادبی ذمہ داری ہے۔ یقیناً آنے والا وقت اس درویش منش شاعر کی قدر و منزلت کو تاریخ کے جلی حروف میں ثبت کرے گا۔ ماخذ: اس مضمون کی بنیادی معلومات چوہدری نعمان آف چوک پنڈوڑی (ایڈمن، کاروانِ ادب انٹرنیشنل) کی فراہم کردہ معلومات اور زبانی روایات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ راقم نے انہیں ادبی، تحقیقی اور اسلوبیاتی سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ راقم السطور: سائیں ظہور قریشی آف مندرہ (بانی و سرپرستِ اعلیٰ: کاروانِ ادب انٹرنیشنل)

کلام

اس شاعر کا کلام ابھی شامل نہیں ہوا۔