
کہوٹہ
وطن کاسپاہی، عالمِ دین اور خاموش شاعر دلدار اختر قریشی بھورہ نصیب۔۔۔ تحصیل کہوٹہ کی ان خوب صورت پہاڑی بستیوں میں سے ایک، جہاں زمین کا حسن اپنی سادگی میں بھی دل کو چھو لیتا ہے۔ کہیں ناہموار پہاڑ، کہیں اونچے نیچے ٹیلے، کہیں چٹانوں سے پھوٹتے آبشاروں کے شفاف چشمے اور کہیں جھرنوں کی مترنم آوازیں۔۔۔ قدرت نے اس خطے کو حسنِ فطرت کے ایسے رنگ عطا کیے ہیں جو پوٹھوہار کی پہچان بن جاتے ہیں۔ مگر کسی خطے کی اصل پہچان صرف اس کے پہاڑ، دریا، جھرنے اور وادیاں نہیں ہوتیں؛ اصل پہچان وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس مٹی میں جنم لیتے ہیں اور اپنے کردار سے اس دھرتی کے نام کو معتبر بناتے ہیں۔ دلدار اختر قریشی المعروف قاضیؔ دلدار اختر قریشی بھی اسی مٹی کے ایک ایسے فرزند تھے، جن کی شخصیت میں بیک وقت دین کی روشنی، وطن کی محبت، سپاہیانہ جرأت، خدمت کا جذبہ اور شاعرانہ حساسیت جمع تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے زندگی کو نمائش نہیں، ذمہ داری سمجھ کر گزارا۔ قریشی ہاشمی خانوادے کا چراغ دلدار اختر قریشی یکم فروری 1944ء کو ڈھوک، داخلی بھورہ نصیب، تحصیل کہوٹہ میں قاضی محمد صدیق کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ قریشی ہاشمی خاندان کے چشم و چراغ اور پانچ بھائیوں اور ایک بہن میں سب سے بڑے تھے۔ بڑے ہونے کا منصب محض عمر کی سبقت نہیں ہوتا؛ یہ گھر کے دکھ سکھ میں شریک ہونے، چھوٹوں کے لیے سایہ بننے اور خاندان کی روایات کو آگے بڑھانے کی ایک خاموش ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ دینی تربیت کا آغاز اپنے دادا محترم مولوی لال دین ہاشمی سے کیا۔ یہی ابتدائی تربیت آگے چل کر ان کی شخصیت کا بنیادی ستون بنی۔ دین ان کے لیے صرف علم کا موضوع نہیں تھا بلکہ زندگی کا ایک عملی حوالہ تھا۔ دنیاوی تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول تھوہا خالصہ سے حاصل کی اور بعد ازاں رسالپور کینٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ یہ تعلیم آگے چل کر انہیں زندگی کے مختلف میدانوں میں لے گئی، مگر ان کی شخصیت میں دین اور دنیا کے درمیان ایک خوب صورت توازن ہمیشہ قائم رہا۔ جب قلم کا آدمی بندوق اٹھا کر محاذ پر گیا 1969ء میں دلدار اختر قریشی نے انجینئر کور، رسالپور کینٹ میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ سپاہی بننا صرف وردی پہن لینا نہیں؛ یہ اپنے آرام، اپنی خواہشات اور کبھی کبھی اپنی جان تک کو وطن کے نام کر دینے کا عہد ہے۔ 1971ء میں جب وطن پر جنگ کے بادل چھائے تو قاضیؔ دلدار اختر قریشی بھی چھمب جوڑیاں کے محاذ پر پہنچے۔ میدانِ جنگ میں انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور غازی کی حیثیت سے واپس لوٹے۔ یہ ان کی زندگی کا ایسا باب تھا جس میں ایک طرف مستقبل کا شاعر موجود تھا اور دوسری طرف وطن کی سرحد پر کھڑا ایک سپاہی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں نرمی اور جرأت ساتھ ساتھ دکھائی دیتی ہے؛ زبان میں شعر کی مٹھاس، مزاج میں دین کی متانت اور کردار میں سپاہی کی مضبوطی۔ قاضیؔ دلدار اختر قریشی — جس نے شعر کو شہرت نہیں، عقیدت بنایا شاعری کی طرف میلان ہوا تو مفکرِ پوٹھوار محمد انور فراق قریشی سے متاثر ہوئے اور شعر کہنا شروع کیا۔ البتہ ان کی شعری نسبت کے حوالے سے مختلف روایات موجود ہیں۔ بعض روایات انہیں سائیں عبدالرحمان فقیر مست، سکنہ باغ بھلاکھر کا شاگرد قرار دیتی ہیں، جبکہ ان کے سکول کے استاد ماسٹر شریف نثار مرحوم بھی استاد ہونے کے ناتے انہیں اپنا شاگرد کہتے رہے۔ تاہم اس بارے میں خود قاضیؔ کی کوئی واضح ذاتی رائے دستیاب نہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی حسن اختر، جو خود پوٹھوہاری شعر خوان ہیں اور محمد زبیر قریشی کے شاگرد ہیں، کے مطابق دلدار اختر قریشی باقاعدہ طور پر کسی ایک استاد کے تلامذہ میں شامل نہیں ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قاضیؔ کی شاعری کو کسی ایک ادبی نسبت کے خانے میں بند کرنا آسان نہیں۔ ان کا شعر ان کے اپنے دینی شعور، قلبی کیفیت اور مشاہدے سے پھوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ شاعر جو مشاعرے میں کبھی نہ گیا قاضیؔ دلدار اختر قریشی کی شخصیت کا ایک نہایت منفرد پہلو یہ ہے کہ وہ شاعر ہونے کے باوجود مشاعروں کی دنیا سے دور رہے۔ ان کی بنیادی شناخت ایک عالمِ دین کی تھی۔ بچپن ہی سے نمازِ تراویح اور امامت کے فرائض ادا کرتے رہے۔ دینی اجتماعات میں شریک ہوئے، مذہبی ذمہ داریاں نبھائیں، مگر اپنے شعری ذوق کو کبھی شہرت کے بازار میں نہیں لے گئے۔ آج کے عہد میں جب شاعر کی شناخت اکثر مشاعرے کی داد، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور نام کی تشہیر سے کی جاتی ہے، قاضیؔ کی شاعری ایک مختلف مزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ شعر کہتے تھے، مگر داد کے لیے نہیں۔ وہ لکھتے تھے، مگر نام کے لیے نہیں۔ وہ اپنے دل کی کیفیت کو لفظ دیتے تھے، اور پھر خاموش ہو جاتے تھے۔ یہی خاموشی شاید ان کی شاعری کا سب سے بڑا حسن ہے۔ عشقِ رسول ﷺ — قاضیؔ دلدار اختر قریشی کے کلام کا روشن باب قاضیؔ دلدار اختر قریشی کے کلام کا یہ نمونہ ان کے قلبی اور دینی مزاج کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے: «کہیا قلم نوں شانِ رسول لکھ دے کیندی میرے وچ ہمت جناب نہ رہئی لکھاں صفت محمد دی، اور کیوں جے کیا میں لکھدی عربی کتاب نہ رہئی گئے جس رات حضور معراج کارن اس رات میں بھی محوے خواب نہ رہئی اگے ہوئی ہاں قاضی اک وار زخمی صفتِ میم ہن لکھن دی تاب نہ رہئی» یہ محض نعتیہ اشعار نہیں؛ یہ ایک ایسے دل کی عاجزی ہے جو محبوبِ خدا ﷺ کی شان بیان کرنے کے لیے قلم اٹھاتا ہے، مگر الفاظ کی کمی محسوس کرکے خود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ “صفتِ میم ہن لکھن دی تاب نہ رہئی” یہ مصرع شاعر کے عجز کی آخری حد کو چھوتا ہے۔ جہاں لفظ ختم ہو جائیں اور عقیدت باقی رہ جائے، وہیں سے شاید سچی نعتیہ کیفیت جنم لیتی ہے۔ ازدواجی زندگی اور خاندان 1971ء میں آپ کی شادی اپنے خاندان میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ آپ کے بڑے صاحبزادے قاضی اسد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہوٹہ میں ملازمت سے وابستہ ہیں۔ گھریلو زندگی میں بھی قاضیؔ نے اپنی ذمہ داریاں اسی خاموش وقار سے نبھائیں جس کے وہ زندگی بھر امین رہے۔ وردی اتری، خدمت کا سفر جاری رہا 1984ء میں پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد قاضیؔ کی زندگی میں ایک نیا باب شروع ہوا، مگر خدمت کا سفر ختم نہ ہوا۔ تقریباً چھ سال تک مرکزی جامع مسجد بھورہ حیال میں جمعہ پڑھایا اور خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر 1990ء میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہوٹہ میں لیبارٹری اٹینڈنٹ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور تادمِ مرگ اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ یوں ان کی زندگی کے مختلف ادوار کو دیکھا جائے تو ایک خوب صورت تسلسل سامنے آتا ہے: فوج میں وطن کی خدمت، مسجد میں دین کی خدمت، ہسپتال میں انسانیت کی خدمت، اور قلم کے ذریعے ادب کی خدمت۔ یہ چاروں راستے بظاہر مختلف تھے، مگر منزل ایک ہی تھی — خدمت۔ سیاست میں بھی فعال کردار دلدار اختر قریشی سماجی اور سیاسی طور پر بھی متحرک رہے۔ آپ جماعتِ اسلامی تحصیل کہوٹہ کے جنرل سیکرٹری اور فعال کارکن رہے۔ اس کے علاوہ پری میڈیکل یونین راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ ان کے سیاسی و سماجی حلقۂ احباب میں مختلف سیاسی جماعتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل رہیں، جن میں کرنل ظہور اختر، راجہ شاہد ظفر، راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی، کرنل یامین ستی اور حاجی جاوید کلرسیداں کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ یہ تعلقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قاضیؔ نے اختلافِ رائے کو تعلقات کی دیوار نہیں بننے دیا۔ شخصیت کا حاصل کسی انسان کی زندگی کا اصل تعارف اس کے عہدوں کی فہرست نہیں بلکہ اس کے کردار کی خوشبو ہوتی ہے۔ دلدار اختر قریشی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کریں تو ایک ایسی شخصیت سامنے آتی ہے جسے کسی ایک عنوان میں محدود کرنا ممکن نہیں۔ وہ قریشی ہاشمی خانوادے کے فرزند تھے۔ وہ پاک فوج کے سپاہی اور جنگِ 1971ء کے غازی تھے۔ وہ عالمِ دین اور امام و خطیب تھے۔ وہ پوٹھوہاری شاعر قاضیؔ تھے۔ وہ ہسپتال کے ملازم تھے۔ وہ سیاسی و سماجی کارکن تھے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ ایک ایسے انسان تھے جس نے زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی۔ کچھ لوگ کتاب نہیں، خود ایک کتاب ہوتے ہیں بعض لوگ اپنی زندگی میں اتنا کچھ چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کی سوانح لکھتے ہوئے قلم بار بار رک جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ الفاظ کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ زندگی بہت زیادہ ہے۔ قاضیؔ دلدار اختر قریشی بھی انہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں جنگ بھی ہے اور امن بھی، مسجد بھی ہے اور میدان بھی، ہسپتال بھی ہے اور سیاست بھی، قلم بھی ہے اور عبادت بھی۔ مگر ان سب کے درمیان ایک چیز مستقل رہی: خاموش خدمت۔ انہوں نے اپنے لیے راستے نہیں بنائے؛ جو راستہ سامنے آیا، اسے ذمہ داری سمجھ کر طے کرتے گئے۔ شاید اسی لیے ان کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ: کچھ لوگ اپنی زندگی میں شہرت کماتے ہیں، اور کچھ لوگ اپنی زندگی کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنا جاتے ہیں۔ دلدار اختر قریشی قاضیؔ کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ حرفِ آخر آج جب ہم تذکرۂ اہلِ کمال کے صفحات میں قاضیؔ کا نام رقم کرتے ہیں تو دراصل ہم صرف ایک شاعر کا تذکرہ نہیں کر رہے؛ ہم ایک ایسے عہد کے ایک ایسے کردار کو محفوظ کر رہے ہیں جس میں دین، وطن، ادب، خدمت اور انسانیت ایک ہی شخصیت میں جمع تھے۔ بھورہ نصیب کی وہ پہاڑی زمین آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ وہ جھرنے آج بھی بہتے ہوں گے۔ وہ ٹیلے آج بھی خاموش کھڑے ہوں گے۔ مگر ان پہاڑیوں کے درمیان کبھی ایک ایسا شخص بھی رہا تھا جس نے وطن کی سرحد پر فرض نبھایا، مسجد میں لوگوں کی رہنمائی کی، ہسپتال میں خدمت کی، معاشرے میں اپنا کردار ادا کیا اور پھر خاموشی سے اپنے دل کی بات شعر میں کہہ دی۔ یہی لوگ کسی خطے کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔ قاضیؔ دلدار اختر قریشی چلے گئے، مگر ان کا کردار باقی ہے؛ ان کی آواز خاموش ہوئی، مگر ان کا کلام باقی ہے؛ اور ان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ان کی داستانِ خدمت باقی ہے۔ یہی اہلِ کمال کی اصل میراث ہے۔ تحقیق و ترتیب: چوہدری نعمان راقم السطور: سائیں ظہور قریشی
