
کلیاہ اسلام آباد
سائیں محمد صادق صدیقؒ شہنشاہِ پوٹھوہار، درویشِ کامل اور پیکرِ فقر و عشق ہیں۔ پوٹھوہار کی مردم خیز دھرتی نے ہمیشہ ایسے عارفانِ باللہ اور سخن وروں کو جنم دیا ہے جن کی فکر اور کردار نے اس خطے کے تہذیبی شجر کو ہمیشہ شاداب رکھا، اور ان میں سائیں محمد صادق صدیقؒ کا نام طرۂ امتیاز ہے۔ ولادت، ابتدائی حیات اور طریقت ولادت و مسکن: آپ 1920ء میں موضع کلیاہ (قریب چراہ، ضلع اسلام آباد) میں قائم دین صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ ترکِ دنیا و سفرِ فقر: ابتدائی تعلیم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی، مگر درویشانہ طبیعت اور باطنی بے چینی کے باعث جلد ہی ملازمت ترک کر کے فقر و درویشی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ نسبتِ طریقت: آپ نے گوجرخان کے عظیم صوفی حضرت سید امداد حسین شاہؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، جنہوں نے آپ کے روحانی و ادبی مقام کو دیکھتے ہوئے "شہنشاہِ پوٹھوہار" کے لقب سے نوازا۔ فکری جہات اور فنکارانہ شخصیت کلام و تصنیف: آپ کی مشہورِ زمانہ تصنیف "فقر و عشق" صوفیانہ افکار، معرفت اور کلامِ الٰہی کی تڑپ کا بے مثال شاہکار ہے، جس کا ہر مصرع روح میں اتر جانے والی کیفیت رکھتا ہے۔ فنِ موسیقی و ستار نوازی: قدرت نے آپ کو موسیقی اور راگ و راگنیوں کی باریکیوں سے بھی مالا مال کیا تھا۔ آپ ایک بے بدل ستار نواز تھے؛ ساز اور آواز کا یہ امتزاج ان کی محافل کو وجدانی کیفیت عطا کر دیتا تھا۔ مکتبِ ادب: آپ محض ایک شاعر نہیں بلکہ فنِ شعر خوانی کے استادِ کامل تھے۔ آپ کی صحبت نے پوٹھوہاری ادب کو درجنوں باکمال شاگرد دیے جنہوں نے آپ سے لفظ کی حرمت اور شعر کا قرینہ سیکھا۔ بے نیازی اور وصال سائیں صدیقؒ نے تمام عمر مجرد رہ کر گزاری اور دنیاوی مال و متاع یا ذاتی مکان سے مکمل بے نیاز رہے۔ آپ کا وصال 6 دسمبر 1981ء کو عصر کے وقت ہوا اور مرشد کے حکم پر آپ کی آخری آرام گاہ کلیاہ کے قدیم قبرستان میں بنائی گئی۔ سائیں محمد صادق صدیقؒ کا چھوڑا ہوا فکری و ادبی ورثہ آج بھی پوٹھوہار کی وادیوں میں معطر ہے اور اہلِ ذوق کے دلوں کو گرماتا ہے۔
