کاروانِ ادب انٹرنیشنلکاروانِ ادب انٹرنیشنل
صفحہ اول

چوہدری عابد حسین عابد

چوہدری عابد حسین عابد

کوہ مری

چوہدری عابد حسین عابد لفظ کا مسافر، محبت کا آدمی،ایک شخص، ایک عہد کچھ لوگ اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی خود دوسروں کے لیے حاصلِ زندگی بن جاتی ہے۔ ان سے ملاقات محض ملاقات نہیں رہتی، صحبت محض صحبت نہیں رہتی اور گفتگو محض گفتگو نہیں رہتی؛ ان کے پاس بیٹھنے والا اپنے دامن میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ضرور لے اٹھتا ہے جو مدتوں اس کے ساتھ رہتی ہے۔ کسی کے حصے میں علم آتا ہے، کسی کے حصے میں شہرت، کسی کو منصب ملتا ہے اور کسی کو دولت؛ لیکن بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں علم کی روشنی، فن کی نزاکت، کردار کی پاکیزگی اور انسان دوستی کی حرارت ایک ساتھ نصیب ہوتی ہے۔ چوہدری عابد حسین عابد کا شمار انہی خوش بخت لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔ وہ شاعر ہیں، مگر صرف شاعر نہیں؛ صاحبِ علم ہیں، مگر محض صاحبِ علم نہیں؛ خوش گفتار ہیں، مگر صرف خوش گفتار نہیں۔ ان کی شخصیت کا اصل حسن شاید یہ ہے کہ ان کے اندر فن اور انسان ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے۔ مٹی سے اٹھنے والی ایک آواز چوہدری عابد حسین عابد کا اصل نام چوہدری عابد حسین ہے۔ ادبی دنیا میں عابد اور محکم ان کے تخلص ہیں۔ والدِ گرامی کا نام چوہدری محمد بشیر تھا۔ سنہ 1960ء میں گاؤں چارہان، تحصیل مری، ضلع راولپنڈی کے اس خطے میں پیدا ہوئے جہاں پہاڑ صرف زمین کی بلندی نہیں بلکہ تاریخ، روایت، غیرت، سادگی اور لوک دانش کے امین بھی ہیں۔ پوٹھوہار کی مٹی میں ایک عجیب سی کشش ہے۔ یہاں کے سنگلاخ راستے، ڈھلوانیں، چشمے، کھیت، ڈیرے اور قدیم بستیاں اپنے اندر ایک ایسا تہذیبی حافظہ رکھتے ہیں جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے، مگر آسانی سے لفظوں میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ عابد حسین عابد کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے مزاج میں بھی اسی مٹی کی کچھ خصوصیات اتر آئی ہیں—سادگی میں وقار، خاموشی میں گہرائی، لہجے میں مٹھاس اور تعلق میں پائیداری۔ دیارِ غیر کے تجربات زندگی نے انہیں وطن کی فضا تک محدود نہیں رکھا۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں قیام نے ان کے مشاہدے کو وسعت دی اور انہیں دیارِ غیر میں رہنے والے انسان کی کیفیات، محرومیوں، جدوجہد اور تجربات کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ پردیس انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے۔ وہ اسے وطن کی قدر بھی بتاتا ہے اور انسانوں کے رویوں کی حقیقت بھی۔ وہ اسے یہ سمجھاتا ہے کہ آدمی جہاں بھی چلا جائے، اپنے اندر ایک پورا وطن لیے پھرتا ہے۔ عابد حسین عابد نے بھی زندگی کے ان تجربات کو محض یادوں کا حصہ نہیں بنایا بلکہ انہیں اپنے فکری اور ادبی شعور کا حصہ بنایا۔ استاد کی نسبت فن کی دنیا میں استاد کی نسبت محض ایک حوالہ نہیں، ایک سندِ تربیت ہوتی ہے۔ عابد حسین عابد کو علی اکبر سیف صاحب جیسے بڑے اور مقبولِ عام شاعر کی صحبت اور رہنمائی نصیب ہوئی۔ یہ نسبت ان کے ادبی سفر کا ایک اہم حوالہ ہے۔ شاعری صرف الفاظ کو مصرعوں میں سجانے کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسی ریاضت ہے جس میں لفظ کو معنی، جذبے کو تہذیب اور خیال کو آہنگ دینا پڑتا ہے۔ استاد کی صحبت اسی ریاضت کو سلیقہ عطا کرتی ہے۔ عابد حسین عابد کے ہاں زبان سے محبت، لفظ کی نزاکت اور شعر کے مزاج کی جو آگہی محسوس ہوتی ہے، اس کے پس منظر میں استادِ فن کی تربیت اور صحبت کا یہ چراغ یقیناً اپنی روشنی رکھتا ہے۔ شاعر جو زندگی کو پڑھتا ہے حقیقی شاعر وہ نہیں جو صرف خوب صورت الفاظ برت لے؛ حقیقی شاعر وہ ہے جو زندگی کے باطن کو پڑھ سکے۔ جو چہروں کے پیچھے چھپی اداسی دیکھ سکے، خاموشی میں چھپی فریاد سن سکے، خوشی کے پیچھے چھپی محرومی کو محسوس کر سکے اور عام سے دکھائی دینے والے واقعے میں غیر معمولی معنی تلاش کر سکے۔ عابد حسین عابد کی شاعری اور ان کی گفتگو میں یہی انسانی تجربہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ان کے لیے ادب زندگی سے فرار کا راستہ نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا وسیلہ ہے۔ ان کے ہاں شعر محض لفظوں کی آرائش نہیں، احساس کی ترجمانی ہے؛ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف ان کے شعری سرمائے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہیں سمجھنے کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھنا، ان کی گفتگو سننا اور ان کے ساتھ زندگی کے موضوعات پر بات کرنا ضروری ہے۔ صحبت جسے یاد رکھا جائے راقم السطور کو طویل عرصے تک چوہدری عابد حسین عابد کی صحبت میسر رہی۔ یہ میرے لیے محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا ادبی و انسانی فیضان تھا جس کی خوشبو آج بھی حافظے میں باقی ہے۔ ہماری نشستوں میں شاعری، علم و ادب اور زبان و بیان تو ہمیشہ زیرِ بحث رہتے تھے، مگر گفتگو کا دائرہ کتابوں کی دنیا تک محدود نہیں رہتا تھا۔ زندگی بھی ہماری گفتگو کا موضوع بنتی اور عابد صاحب اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے پہلو سامنے لاتے جن تک محض کتابیں پڑھ کر رسائی ممکن نہیں۔ وہ معاشرتی زندگی کے معاملات پر جس خلوص سے رہنمائی فرمایا کرتے، اس میں کسی واعظ کا تصنع نہیں بلکہ ایک جہاندیدہ انسان کی بے ساختہ خیرخواہی ہوتی تھی۔ ان کے مشورے میں حکم نہیں ہوتا تھا، حکمت ہوتی تھی۔ ان کی گفتگو میں تفاخر نہیں ہوتا تھا، تجربہ بولتا تھا۔ ان کی اصلاح میں ملامت نہیں ہوتی تھی، محبت ہوتی تھی۔ اور یہی کسی بڑے انسان کی اصل پہچان ہے۔ لفظوں کا آدمی عابد حسین عابد کے لیے لفظ محض لفظ نہیں؛ لفظ ایک ذمہ داری ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے تہذیبی حافظہ بھی تصور کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایسے الفاظ کی تلاش محسوس ہوتی ہے جو اب روزمرہ سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ نادر اور کم یاب الفاظ ان کے ذوقِ مطالعہ اور زبان سے گہری وابستگی کا پتہ دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے ان کی بات میں ایک مخصوص لفظی وقار محسوس ہوتا ہے۔ وہ عام بات کو بھی ایسے پیرائے میں بیان کرتے ہیں کہ اس میں تجربے کی حرارت اور فکر کی روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔ عابد حسین عابد ایک ادبی شناخت شاعری کسی شخص کے جذبات کا آئینہ تو ہوتی ہی ہے، مگر بڑے شاعر کے ہاں وہ اس کے عہد کا آئینہ بھی بن جاتی ہے۔ عابد حسین عابد کی شاعری کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے لیے شعر محض قافیہ و ردیف کی مشق نہیں بلکہ احساس، تجربے اور مشاہدے کا حسین امتزاج ہے۔ ایک حقیقی شاعر وہی ہوتا ہے جو اپنے گردوپیش کے دکھ، خوشی، محرومی، محبت، جدائی، انسانی تعلق اور معاشرتی حقیقت کو اپنے اندر جذب کرکے اسے لفظوں میں ڈھال دے۔ عابد حسین عابد کی شخصیت میں شاعر اور انسان ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ان کا انسانی تجربہ ان کے شعری مزاج کو غذا فراہم کرتا ہے اور ان کا ادبی شعور ان کے انسانی رویوں کو مزید شائستگی عطا کرتا ہے۔ ایک عہد کی یادداشت وقت گزر جاتا ہے، لوگ عمر کی منزلیں طے کرتے ہیں، محفلیں بکھر جاتی ہیں اور بہت سے نام رفتہ رفتہ حافظے کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں؛ مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت اپنے ساتھ نہیں لے جا پاتا۔ وہ لوگوں کی یاد میں نہیں، لوگوں کے مزاج میں زندہ رہتے ہیں۔ چوہدری عابد حسین عابد بھی میرے نزدیک ایسی ہی شخصیت ہیں۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت محض ماضی کا ایک باب نہیں بلکہ ایک ایسا سرمایہ ہے جس میں شعر بھی ہے، ادب بھی، تجربہ بھی، محبت بھی اور انسان دوستی بھی۔ ان کی صحبت نے یہ احساس مزید پختہ کیا کہ کسی انسان کی بڑائی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے، کتنے شعر کہتا ہے یا کتنی شہرت رکھتا ہے؛ اصل بڑائی تو اس میں ہے کہ وہ دوسروں کے دل میں اپنے لیے کتنی عزت، محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور اس میزان پر چوہدری عابد حسین عابد کا قد یقیناً بلند ہے۔ عابد حسین عابد صاحب کا اصل کمال اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ عابد حسین عابد کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے تو شاید میں ان کی شاعری کا ذکر کرنے سے پہلے۔ ان کی انسانی شرافت کا ذکر کروں گا۔ وہ بااخلاق ہیں، ملنسار ہیں، عاجز ہیں، خوش مزاج ہیں اور سب سے بڑھ کر مخلص ہیں۔ آج کے عہد میں مخلص ہونا شاید سب سے مشکل وصف ہے۔ تعلقات بہت ہیں مگر اخلاص کم؛ گفتگو بہت ہے مگر دل کی بات کم؛ ملاقاتیں بہت ہیں مگر صحبت کم۔ عابد حسین عابد ان لوگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ابھی دنیا میں بے غرض تعلق، بے لوث محبت اور بے ساختہ خلوص پوری طرح ناپید نہیں ہوا۔ وہ کسی کی بات سن کر فوراً فیصلہ صادر نہیں کرتے بلکہ پہلے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں وہ عجز ہے جو علم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، اور وہ کشادگی جو بڑے دل والوں کا خاصہ ہے۔ لفظوں کے امین عابد حسین عابد کے مزاج میں زبان کے قدیم اور نادر الفاظ سے ایک خاص انس محسوس ہوتا ہے۔ وہ ان لفظوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں جو روزمرہ کی تیز رفتار دنیا میں رفتہ رفتہ متروک ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صرف الفاظ کا ذخیرہ نہیں؛ یہ تہذیب کا محفوظ خزانہ ہے۔ ہر نایاب لفظ کے ساتھ ایک زمانہ وابستہ ہوتا ہے، ایک تہذیبی تجربہ، ایک مخصوص احساس اور ایک پورا معاشرتی منظرنامہ۔ جو شخص ایسے الفاظ کو زندہ رکھتا ہے، وہ دراصل زبان کے ساتھ ساتھ ایک تہذیبی روایت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔ اسی لیے عابد حسین عابد کی زبان سے نکلنے والا کوئی قدیم یا نادر لفظ محض لغوی حسن نہیں رکھتا بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری دنیا سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ شخصیت جو شعر سے بڑی ہے عابد حسین عابد کو صرف شاعر کہنا شاید ان کی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی شخصیت خود ایک متن ہوتی ہے۔ ان کی مجلس ایک کتاب کی مانند ہے؛ ان کی گفتگو ایک تجربے کی طرح؛ ان کی نصیحت ایک خیرخواہ دعا کی طرح؛ اور ان کی دوستی ایک ایسے سائے کی مانند جس کی ٹھنڈک کا احساس وقت گزرنے کے بعد زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔ بعض لوگ محفل میں بیٹھ کر محفل کا حصہ ہوتے ہیں، مگر بعض لوگ محفل اٹھ جانے کے بعد بھی محفل کی یاد بنے رہتے ہیں۔ عابد حسین عابد انہی لوگوں میں سے ہیں۔ ایک عہد کی خوشبو وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ نسلیں بدلتی ہیں، ذوق بدلتے ہیں، زبان کے لہجے بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں اور بہت سے نام وقت کی گرد میں چھپ جاتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے عہد میں لفظ، محبت اور کردار کے چراغ روشن کیے ہوں، ان کا چراغ آسانی سے نہیں بجھتا۔ چوہدری عابد حسین عابد بھی میرے لیے ایسے ہی چراغ ہیں۔ ان کی شخصیت میں پوٹھوہار کی مٹی کی خوشبو ہے، دیارِ غیر کے تجربے کی تلخی و شیرینی ہے، استاد کی تربیت کی روشنی ہے، شاعر کی حساسیت ہے اور ایک درویش صفت انسان کی عاجزی ہے۔ یہ امتزاج کم یاب ہے۔ آخر میں زندگی میں بعض ملاقاتیں حادثہ ہوتی ہیں، بعض تعلقات ضرورت، بعض دوستیاں وقت کی پیداوار؛ لیکن کچھ صحبتیں ایسی ہوتی ہیں جو تقدیر کا عطیہ محسوس ہوتی ہیں۔ چوہدری عابد حسین عابد کی صحبت میرے لیے ایسی ہی ایک نعمت رہی ہے۔ میں نے ان میں ایک شاعر دیکھا، مگر اس سے بڑھ کر ایک انسان دیکھا۔ ایک صاحبِ علم دیکھا، مگر اس سے بڑھ کر ایک صاحبِ دل دیکھا۔ ایک استاد مزاج شخص دیکھا، مگر اس سے بڑھ کر ایک مخلص رفیق دیکھا۔ اور شاید یہی ان کی شخصیت کا سب سے بڑا تعارف ہے کہ انہیں جتنا قریب سے دیکھا، اتنا ہی ان کے اندر موجود انسان شاعر پر غالب آتا گیا۔ آج جب ماضی کے دریچے کھلتے ہیں تو ان کی گفتگو کے کئی جملے، ان کی مجلس کی کئی ساعتیں اور ان کی محبت بھری رہنمائی کے کئی لمحے یادوں کے افق پر اب بھی روشن دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے لوگ عمر سے بڑے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ وقت سے آگے چلتے ہیں۔ اور ایسے لوگ جب ہماری زندگی سے گزر بھی جائیں تو ہماری یادداشت سے نہیں گزرتے۔ چوہدری عابد حسین عابد بھی میرے لیے ایک نام نہیں؛ وہ ایک یاد، ایک نسبت، ایک صحبت اور ایک روشن ادبی حوالہ ہیں۔ اور اگر ایک جملے میں ان کا تعارف لکھنا ہو تو میں شاید یہی کہوں گا: "عابد حسین عابد وہ شخص ہیں جنہوں نے لفظوں کو شعر، تجربے کو حکمت اور تعلق کو خلوص میں ڈھال کر زندگی کو ایک خوب صورت معنی عطا کیا۔"

کلام

اس شاعر کا کلام ابھی شامل نہیں ہوا۔