
کلر سیداں
اقلیمِ سخن کامستور ماہتاب, پوٹھوہار کا نوحہ گرِ فطرت مٹی کی سوندھی خوشبو سے لاہوت کے سفر تک تخلیق کے اسرارِ نہاں اور فکر کے بطون میں کچھ ایسی نابغہ روزگار شخصیات جنم لیتی ہیں جن کا خمیر تو مٹی کی سوندھی خوشبو اور زمینی رشتوں سے اٹھتا ہے، مگر ان کے طائرِ فکر کی پرواز لاہوتی اور ماورائی ہوتی ہے۔ خطہ پوٹھوہار—جو اپنی عسکری شجاعت، مٹی کی زرخیزی اور تخلیقی ابال کے لیے روزِ اول سے مبرہن اور زرخیز رہا ہے—اسی مردم خیز زمین کی کوکھ سے ایک ایسی ہی صاحبِ طرز اور درویش صفت شخصیت نے جنم لیا، جنہیں دنیائے ادب قریشی غضنفر علی دکھی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ وہ محض ایک روایتی قافیہ پیما یا بحور کے اسیر شاعر نہ تھے، بلکہ سوزِ دروں، نغمہ سرمدی اور رقتِ قلبی کے ایک ایسے ہم رکاب تھے جنہوں نے حرف و صوت کو تقدس کا پیراہن عطا کیا اور کلام کو الہامی کیفیات سے آشنا کیا۔ نسبتی و فکری پس منظر: نور علیٰ نور کا مطلع قریشی غضنفر علی دکھی کی نشوونما اور فکری نمو ایک ایسے علمی، ادبی اور روحانی گہوارے میں ہوئی جہاں فکر و نظر کی تطہیر اور روح کی صیقل پہلی ترجیح تھی۔ آپ تحصیل کلر سیداں کے تاریخی، تہذیبی اور مردم خیز نواحی گاؤں 'درکالی شیر شاہی' کے جلیل القدر عالمِ دین، زہد و تقویٰ کے پیکر مولانا عبدالرزاق قریشی کے لختِ جگر تھے۔ یہ وہ آستانہ علم تھا جہاں فصاحتِ لسان اور بیباکیِ گفتار ورثے میں ملتی ہے۔ مزید برآں، آپ کو پوٹھوہار کے جادو بیاں مفکر، قادر الکلام سخن ور اور بے مثل ادیب مفکر پوٹھوہار محمد انور فراق قریشی کی بھانجگی اور تلمذ کا شرف حاصل رہا۔ یہ فکری اتصال گویا "نور علیٰ نور" کا مصداق تھا؛ جہاں ایک طرف خانقاہی جلال اور علمی وقار تھا، تو دوسری طرف شعری و ادبی جمال کی فراوانی تھی۔ اسی دوجہتی فیضان نے غضنفر علی دکھی کے شعور کو وہ صیقل فراہم کی جس نے آگے چل کر ان کے لفظ لفظ کو کندن اور ہر مصرعے کو لازوال بنا دیا۔ دورِ حیات: بیرکوں کی تنہائی سے مشقِ سخن تک اگست 1950 میں درکالی شیر شاہی کی بزمِ ہستی میں آنکھ کھولنے والے اس درویش منش شاعر نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی مسکن ہی سے حاصل کی۔ پرائمری سے میٹرک تک کا یہ دورِ طالب علمی دراصل ان کے شعری بطون کی بیداری اور وجدان کا زمانہ تھا۔ شعری ذوق فطرت کی طرف سے ودیعت کردہ وہ چنگاری تھا جو وقت کی تپش کے ساتھ ایک شعلہۂ جوالہ بن کر ابھرا۔ معاشی بقا اور حبِ وطنی کے لازوال جذبے سے سرشار ہو کر آپ نے 'پاک آرمی' کے شعبے کا انتخاب کیا۔ ایک سپاہی کی کٹھن زندگی، آہنی ڈسپلن کی سختی اور بیرکوں کی تنہائی عام طور پر لطیف جذبات کو منجمد کر دیتی ہے، مگر دکھیؔ کا تخلیقی چشمہ دشتِ غربت اور ایامِ ملازمت کی صعوبتوں میں بھی پوری طغیانی اور ابال کے ساتھ بہتا رہا۔ انہوں نے بندوق کی گرج اور عسکری فرائض کے مابین بھی قلم کی آبرو کو مقدم رکھا اور دمِ آخر تک، جب تک نبضِ حیات چلتی رہی، قرطاس و قلم سے اپنا رشتہ استوار رکھا۔ شعری جہات: اصناف پر حاکمانہ دسترس قریشی غضنفر علی دکھی کا میدانِ سخن نہایت وسیع، عمیق اور کثیر الجہات تھا۔ اگرچہ انہوں نے اردو غزل کو اپنی فکری جولان گاہ بنایا اور اس صنفِ نازک میں غایت درجے کا اچھوتا پن اور تغزل پیدا کیا، لیکن ان کا اصل کمال اور فنی عروج ان کے چومصرعوں (رباعیات و قطعات) میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے ہندکو، پوٹھوہاری اور اردو زبان کے حسین امتزاج سے چومصرعوں کی صنف کو وہ اسلوب اور حلاوت بخشی جو عام روایتی شعرا کے ہاں ناپید ہے۔ ان کی شاعری کے موضوعات میں جہاں ایک طرف صوفیانہ تڑپ، الہیاتی عشق اور معرفت کا بحرِ بے کنار موجزن ہے، وہاں دوسری طرف معاشرتی اکھاڑ پچھاڑ، فکری جمود پر تازیانے اور انسانی نفسیات کے عمیق مشاہدات بھی ملتے ہیں۔ نمونہۂ کلام کا فکری و فنی محاکمہ ۱۔ مناجات: بارگاہِ الٰہی میں عجز کا کمل التجا ہے رب جلیل اگے میری کھوٹی تقدیر نوں کھری کر دے ابر کرم برسا کے نال رحمت کھیتی خشک امیداں دی ہری کر دے جس دی ملے نہ کوئی مثال ہرگز بے مثال میری سخنوری کر دے دکھی سارے گناہاں تے پا پردہ روزِ محشر میدان وچ بری کر دے یہ قطعہ بارگاہِ الٰہی میں عجز و انکسار کا وہ شاہکار ہے جہاں ایک سچا تخلیق کار اپنی 'سخنوری' کی بے مثالی کے لیے بھی کسی دنیاوی جاہ و حشم کا نہیں، بلکہ رب کی رحمت کا متقاضی ہے۔ "خشک امیداں دی کھیتی" کو ہرا کرنے کا استعارہ ان کی داخلی تنہائی، دردمندی اور امیدِ پیہم کا عکاس ہے۔ ۲۔ نقدِ معاشرت: فکری تازیانہ اور نقدِ عصر جھٹ قالو بلیٰ تے کہہ دتا اے پر شرک دی تیرے تھیں بوُ نہ گئی اک وسیا نہ تیرے من اندر تے تلاش تیری چار سو نہ گئی بیٹھ گیا ایں غیر دا پھڑ دامن آخر تک حالت گو مگو نہ گئی مسلمان تے دکھی کہلان لگا قوم ِعادو ثمود دی خوُ نہ گئی یہ چومصرعہ فکرِ اقبال کا تسلسل محسوس ہوتا ہے، جہاں منافقتِ عصر اور کھوکھلے مذہبی دعووں پر کڑی فکری ضرب لگائی گئی ہے۔ انسان کا "قالو بلیٰ" (اقرارِ توحید) کرنا مگر عملاً غیروں کا دامن تھامنا، اور خود کو مسلمان کہلا کر بھی "قومِ عاد و ثمود" کی سرکشی کو دل سے نہ نکال پانا، ان کے گہرے قرآنی مطالعے، آفاقی شعور اور بیباک اسلوبِ بیاں کی بین دلیل ہے۔ ۳۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ: ندرتِ بیان اور حُسنِ عقیدت جیڑے ہتھ پے بت تراشدے سن اُنھاں ہتھاں دے نقش سنوارے آقا اُٹھن لگے اوہ ہتھ دربار حقدے رنگ ہستی وچ جسدم کھلارے آقا جو ٹٹولدے بحر ظلمات وچ سن پکڑ ہتھ اوہ لائے کنارے آقا دکھی جھوٹے آقاواں دی بس ہو گئی آئے دنیا وچ جسدم ہمارے آقا یہ نعتِ پاک فصاحتِ لسانی اور بلاغت کا اوج ہے۔ بت تراشنے والے ہاتھوں کا دربارِ حق میں بلند ہونا اور نقشِ انسانیت کا سنور جانا، کائنات کے سب سے بڑے فکری و سماجی انقلاب کی خوبصورت شعری تعبیر ہے۔ "جھوٹے آقاواں دی بس ہو گئی" کہہ کر دکھیؔ نے کائنات کے واحد سچے ہادی، سرورِ کون و مکاں ﷺ کی آفاقیت کو جس سادگی، پرکاری اور والہانہ پن سے بیان کیا ہے، وہ انہی کا حصہ ہے۔ غروبِ آفتاب: لایموت حرف کا سفرِ دوام افسوس کہ ادب کے افق پر چمکنے والا یہ ستارہ 29 دسمبر 1994 کو محض 44 سال کی بھرپور تخلیقی عمر میں، بزمِ جہاں کو سوگوار چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور درکالی شیر شاہی کی اسی مٹی کا پیوند بن گیا جس سے اس کا تخلیقی خمیر اٹھا تھا۔ مگر قانونِ قدرت ہے کہ سچا تخلیق کار کبھی مرتا نہیں؛ وہ اپنے حرفِ زندہ کی بدولت زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہو کر لایموت ہو جاتا ہے۔ یہ امر انتہائی لائقِ تحسین، لائقِ صد رشک اور باعثِ طمانیت ہے کہ ان کے ہونہار اور علم پرور صاحبزادے معین اختر قریشی نے اپنے عظیم والد کے اس بکھرے ہوئے فکری سرمائے، نوادرات اور مسودات کو نہ صرف مٹنے سے محفوظ کیا، بلکہ اسے ایک گراں قدر کتابی شکل میں ترتیب دے کر اشاعت کے مراحل تک پہنچا دیا ہے۔ اردو، پوٹھوہاری اور ہندکو کلام پر مشتمل یہ مجموعہ جب زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئے گا، تو یہ یقیناً خطہۂ پوٹھوہار کے ادبی وقار اور تاریخ میں ایک گراں قدر، ناگزیر اضافہ اور دکھیؔ کی روح کے لیے ایک دائمی، لازوال خراجِ عقیدت ثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس سخن ورِ باکمال، نوحہ گرِ فطرت کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، اور ان کے خَلَفُ الرَّشِيد معین اختر قریشی کو اس علمی امانت کی ترویج و اشاعت میں سرخرو کرے۔ آمین، یا رب العالمین۔ راقم السطور سائیں ظہور قریشی آف مندرہ
