کاروانِ ادب انٹرنیشنلکاروانِ ادب انٹرنیشنل
صفحہ اول

سائیں ظہور قریشی

سائیں ظہور قریشی

گوڑھا قریشیاں، مندرہ، تحصیل گوجرخان

سائیں ظہور قریشی — پوٹھوار کی آواز، لفظوں کا مسافر بعض لوگ زندگی کے ہجوم میں محض ایک نام ہوتے ہیں، مگر بعض شخصیتیں اپنے عہد کی پہچان بن جاتی ہیں۔ ان کے لفظ، ان کا لہجہ، ان کی فکر اور ان کی کاوشیں رفتہ رفتہ ایک ایسی شناخت اختیار کر لیتی ہیں جو فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر پورے خطے کی آواز بن جاتی ہے۔ سائیں ظہور قریشی بھی ایسی ہی شخصیت ہیں جنہوں نے پوٹھوار کی مٹی سے جنم لے کر اپنے لفظوں، اپنی شاعری اور اپنی ثقافتی خدمات کے ذریعے پوٹھواری ادب کو نئی وسعتوں سے آشنا کیا۔ سائیں ظہور قریشی، جن کا شعری تخلص "ظہور" اور "ظہور سائیاں" ہے، محمد رمضان قریشی کے فرزند ہیں۔ آپ کا تعلق پوٹھوار کے تاریخی اور تہذیبی خطے کے گاؤں گوڑھا قریشیاں، مندرہ، تحصیل گوجرخان سے ہے۔ آپ نے 10 دسمبر 1972ء کو اس دھرتی پر آنکھ کھولی جس کی مٹی میں محبت، سادگی، غیرت اور لوک دانش صدیوں سے اپنی خوشبو بکھیرتی آئی ہے۔ یہ شاید قدرت کا خاص عطیہ ہوتا ہے کہ کسی انسان کے دل میں لفظ اترتے ہیں اور پھر وہ لفظ لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ظہور قریشی کی شاعری کا سفر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا نام پوٹھواری شاعری کے ان نمائندہ ناموں میں شمار ہونے لگا جن کے اشعار محفلوں کی زینت بننے لگے۔ آج پوٹھوار اور کشمیر کے معروف شعر خوانوں کی زبان سے ان کے اشعار سننے کو ملتے ہیں۔ شعری محفلیں ہوں، ثقافتی پروگرام ہوں یا دیارِ غیر میں پوٹھواری محبتوں کی نشستیں، ظہور قریشی کے الفاظ اپنی الگ پہچان کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔ یہ مقبولیت محض اتفاق نہیں بلکہ اس تخلیقی سچائی کی دلیل ہے جو ان کے کلام میں موجود ہے۔ سوشل میڈیا پر پوٹھواری شاعری کا ابتدائی سفر پوٹھواری ادب کی جدید ڈیجیٹل تاریخ میں سائیں ظہور قریشی کا نام ایک نمایاں حوالہ رکھتا ہے۔ وہ زمانہ جب سوشل میڈیا پر پوٹھواری شاعری کو آج جیسی وسعت اور پذیرائی حاصل نہ تھی، ظہور قریشی نے اس میدان میں لفظوں کا چراغ روشن کیا۔ فیس بک کے ابتدائی پوٹھواری صفحات میں سے ایک، "اپنا پوٹھوار" پر انہوں نے اپنے علاقے کے معروف شاعر عبدالرحمان عبدل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انکا لکھا ہوا یہ شعر پوسٹ کیا۔ عبدل گلی وچوں لکھاں انسان لہنگدے رکھیے دل دل پر دلاں والی جائی رکھیے یہ محض ایک پوسٹ نہ تھی؛ یہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر پوٹھواری شاعری کو سوشل میڈیا کی وسیع دنیا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوٹھوار کے نوجوان، شعراء، شعر خوان اور ادب سے محبت رکھنے والے لوگ اس کارواں سے جڑنے لگے۔ وہ شاعری جو کبھی مخصوص محفلوں، دیہات کی چوپالوں اور محدود ادبی نشستوں تک سمٹی ہوئی تھی، ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے گھر گھر پہنچنے لگی۔ یوں لفظوں کا یہ سفر محض شاعری کا سفر نہ رہا بلکہ پوٹھواری شناخت، ثقافت اور زبان کے احیا کی ایک نئی جہت بن گیا۔ اپنا پوٹھوار ویب ٹی وی — ایک خواب سے حقیقت تک سائیں ظہور قریشی صرف شاعر نہیں، بلکہ ایک صاحبِ فکر اور متحرک ثقافتی کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے اس حقیقت کو بہت پہلے محسوس کر لیا تھا کہ اگر اپنی زبان اور ثقافت کو نئی نسل تک پہنچانا ہے تو جدید ذرائع ابلاغ سے رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنا پوٹھوار ویب ٹی وی کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوا جس نے پوٹھوار کی آواز کو سرحدوں سے آزاد کر دیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے براہِ راست پوٹھواری شاعری، شعر خوانی اور ثقافتی پروگرام نشر ہونے لگے۔ دیارِ وطن سے دور بیٹھا پوٹھواری اپنے گاؤں، اپنی زبان، اپنے لہجے اور اپنی تہذیب کی خوشبو محسوس کرنے لگا۔ یہ محض ایک ویب ٹی وی نہ تھا؛ یہ بکھرے ہوئے پوٹھواریوں کے درمیان محبت کا ایک پل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پوٹھوار ٹی وی نیوز، اے پی ٹی نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے اور اپنا پوٹھوار ڈاٹ کام جیسے پلیٹ فارمز کی بنیاد بھی رکھی، جو اپنی اپنی سطح پر عوام میں مقبول ہوئے اور پوٹھوار سے وابستہ معلومات، خبریں اور ثقافتی سرگرمیاں لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ استاد کی نسبت — شاعری کی معتبر روایت ہر فنکار کے سفر میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو اس کی زندگی کا مستقل حوالہ بن جاتے ہیں۔ سائیں ظہور قریشی کے ادبی سفر میں بھی ایک نہایت اہم اور روح پرور نسبت استادِ محترم حاجی چوہدری مشتاق آسی آف راجور، آزاد کشمیر کی شاگردی ہے۔ مشتاق آسی ایک صاحبِ کتاب، صاحبِ فکر اور معتبر شاعر ہیں، جن کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ سائیں ظہور قریشی نے مملکتِ بحرین میں منعقد ہونے والی استاد محترم مشتاق آسی صاحب کی الوداعی تقریب کے موقع پر باقاعدہ طور پر ان کی شاگردی اختیار کی۔ یہی وہ بابرکت لمحہ تھا جب ایک تخلیق کار کو استاد کی سرپرستی اور روایت کی مضبوط ڈور نصیب ہوئی۔ ان کا پہلا مشاعرہ بھی استاد محترم کے زیرِ سایہ پڑھا گیا۔ صدائے درد — دل سے نکلی آواز سائیں ظہور قریشی کی پہلی کتاب "صدائے درد" اسی داخلی کرب اور احساس کی نمائندہ ہے۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی۔ ان کی دوسری کتاب "دردِ حبیب" عنقریب شائع ہونے والی ہے۔ ریاض میں پوٹھوار کی ادبی بستی بسلسلۂ روزگار سائیں ظہور قریشی اس وقت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم ہیں۔ ریاض میں انہوں نے پوٹھواری شعر خوانی کی محفلوں کا باقاعدہ آغاز کیا اور اوورسیز پوٹھوار گروپ ریاض کی بنیاد رکھی۔ کاروانِ ادب انٹرنیشنل — ایک خواب، ایک مشن سائیں ظہور قریشی کی شخصیت کا شاید سب سے وسیع اور دور رس پہلو کاروانِ ادب انٹرنیشنل ہے۔ یہ پوٹھواری ادب، شاعری، تاریخ اور ثقافت کے تحفظ اور فروغ کا ایک سنجیدہ اور مربوط مشن ہے۔ سائیں ظہور قریشی — ایک نام نہیں، پوٹھوار کے لفظوں میں دھڑکتا ہوا ایک عہد ہیں۔

کلام

دن گزر جاند ا آہ و فغاں اندر

غزل

دن گزر جاند ا آہ و فغاں اندر تڑپ تڑپ کے رات گزاری جاندی عجب منطق عشق پریم والی ہوش منداں دی عقل وی ماری جاندی

پڑھ بسم اللہ تے سمجھ بسم اللہ

غزل

پڑھ بسم اللہ تے سمجھ بسم اللہ باہج اس تھیں کجھ آغاز نہ کر بناں اس نہیں حاصل مراد ہوندی ہور ورد وظائف خود ساز نہ کر

جتنا کسے دا دامن دراز ہوندا

غزل

جتنا کسے دا دامن دراز ہوندا اُتنی اُسنوں مالک اوقات دینا ایں ساری عمر نئیں بندہ مکا سکدا اتنا کرم سنگ فیض و برکات دینا ایں

جے کد آپ توں دیویں توفیق مولا

نظم

جے کد آپ توں دیویں توفیق مولا فیر کیوں نہ تیری تعریف لکھاں جہڑی بن جائے راہ نجات میری ایسا کافیہ تے ایسی ردیف لکھاں

بھانویں غزل مسدس یا شعر لیکھاں

نظم

بھانویں غزل مسدس یا شعر لیکھاں جو وی لیکھاں عالی جناب لکھاں کرماں والیا کرم روا رکھیاں نعت آقا دی بے حساب لکھاں

وقت نزع دے یارب دعا میری

نظم

وقت نزع دے یارب دعا میری کلمہ نبی دا پڑھدی زبان ہوے آقا آقا پکاردا مرجاواں لباں اتے نہ غیر بیاں ہوے

کملی والے دا شہر پیارا

نظم

کملی والے دا شہر پیارا ویکھاں ڈھڈی حب ہے میں منہ کالڑی نوں کرو کرم تے آقا بلاؤ جلدی اپنے در تے اس ہتھ خالڑی نوں

ماں دی کی میں شان دساں

نظم

ماں دی کی میں شان دساں ماں ناں ای ٹھنڈیاں چھاواں دا اے کہٹ ماں تھیں باپ دا نہیں رتبہ باپ راہنما مشکل راہواں دا اے

رکھیاں سدا ہی خاص خیال پترا

نظم

رکھیاں سدا ہی خاص خیال پترا نازک دل جے ہوندا ماواں دا اے فقط ماں ہے ایسی انمول ہستی مل جس دیاں نہ کوئی چاہواں دا اے

ویکھ اصغر نوں پیاسا وچ کربل

نظم

ویکھ اصغر نوں پیاسا وچ کربل چھم چھم نہر پئی دن رات روئے ماراں چھل جے ہوئے حکم ربی تڑپے پھڑ کے وچ جذبات روئے

ڈولے صدقوں نہ اہل بیت ویکھو

نظم

ڈولے صدقوں نہ اہل بیت ویکھو بہتر تن جہناں کوہائے کربل جاواں صدقے انہاں شہزادیاں توں جہناں خون اپنے وگائے کربل

آقا آقا کر بلایا عمر ساری

نظم

آقا آقا کر بلایا عمر ساری تابعداری عباس تے آن مکی وچ کربل دے بازو قلم ہوئے علمداری عباس تے آن مکی

بناں منگیاں ہی توں تے دے دیویں

غزل

بناں منگیاں ہی توں تے دے دیویں کر کے معاف ہمیش خطا میری توں جبار قہار ہیں یا مولا کیتھی عملاں دی ہے سیاہ میری

بچپن دے وعدے تے قول تیرے

غزل

بچپن دے وعدے تے قول تیرے مینوں تیری دلداری او یاد اج وی ساری زندگی نہ بھلساں اے آکھنڑاں سیں میرے دل وچ یاد آباد اج وی

روسے روسے وچ عمر گزار بیٹھے

غزل

روسے روسے وچ عمر گزار بیٹھے کدی تیرا تے کدی میرا رسنا کاتب تقدیر وچ خبرے کی لکھیا کدی رات تے کدی سویرا رسنا

دنیا اتوں نہیں مکی وفا

غزل

دنیا اتوں نہیں مکی وفا اچرے بے وفاواں ول ایڈا دھیان نہ کر چڑھیا سورج وی ہوند غروب آخر توں وی جوبن جوانی تے مان نہ کر

کیتی پوجا میں عمر تمام

غزل

کیتی پوجا میں عمر تمام جس دی مار ٹھوکر شریکاں وچ چھوڑ گے او دیندے مثال سن جو شریں فرہاد والی بھل کے قول قرار مکھ موڑ گے او

درد کی دساں درداں والیاں دے

غزل

درد کی دساں درداں والیاں دے دے کے درد نشانی مکھ موڑ گئے او میرے دل دی دنیا اجاڑ کے تے سنگ نال رقیباں نے جوڑ گئے او

لگا مرض کوئی ایسا عجیب

غزل

لگا مرض کوئی ایسا عجیب اسنوں ویکھ نبض طبیب فرمان سارے بچھیا کجھ نہیں جسم ناتواں اندر مڑ مڑ کے ایہہ سمجھان سارے

نسلی یاری یارانے دا بھرم

غزل

نسلی یاری یارانے دا بھرم ہوندے کم ذات جو یاریاں توڑ جاندے لڑ مردے اصیل میدان اندر بدنسلے میدان چوں دوڑ جاندے

ملدا لفظ نہیں کوئی تحریر جوگا

غزل

ملدا لفظ نہیں کوئی تحریر جوگا کھا کے عقل و شعور سب مات روئے جد وی کراں بیان تفصیل کربل حرف حرف میرا ہر ہر بات روئے

وعدے وصل دے نہیں توں وفا کیتے

غزل

وعدے وصل دے نہیں توں وفا کیتے میرا پیار ہے پیار گمنام اج وی آندی یاد تے اتھروں روان ہوندے بیٹھا راہ پیا تکدا سر بام اج وی

تیرے نام سیں ہے آغاز میرا

نظم

تیرے نام سیں ہے آغاز میرا تیرے نام سیں ہے انتہا میری توں قادر قدیر ہر شئے اتے ابن آدم ہاں بخش خطا میری

آیا دنیا تے درے یتیم

نظم

آیا دنیا تے درے یتیم جس دم ارض و سماں سب نور و نور ہو گئے نگاہ نبی وچ ویکھو تاثیر کتنی برج کفر والے چکنا چور ہو گئے