کاروانِ ادب انٹرنیشنلکاروانِ ادب انٹرنیشنل
صفحہ اول

ماسٹر دلپزیر شاد

ماسٹر دلپزیر شاد

کلر سیداں

محسنِ پوٹھوہار ماسٹر محمد دلپذیر شاد ایک عہد، ایک دبستان، ایک روشن روایت سرزمینِ پوٹھوہار محض پہاڑوں، وادیوں، چشموں اور قدیم بستیوں کا نام نہیں؛ یہ ایک ایسی تہذیبی سرزمین ہے جس کی مٹی نے صدیوں سے شمشیر کے ساتھ سخن، روایت کے ساتھ فکر اور تاریخ کے ساتھ ادب کو بھی جنم دیا ہے۔ اس خطے کی بستی بستی میں کوئی نہ کوئی داستانِ حیات پوشیدہ ہے اور گاؤں گاؤں میں ایسے کردار ملتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی پیشانی پر اپنے فن کی روشن تحریر ثبت کی۔ کلرسیداں بھی اسی تابناک ادبی روایت کا ایک معتبر باب ہے۔ یہاں شعر نے زندگی کی زبان سیکھی، لوک روایت نے لفظوں کا جامہ پہنا اور اہلِ قلم نے پوٹھوہار ی کی تہذیبی شناخت کو اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ اسی ادبی کہکشاں میں ایک ایسا نام بھی ہے جسے محض شاعر کہنا اس کی شخصیت کو محدود کرنا ہے۔ ماسٹر محمد دلپذیر شاد وہ سخنور تھے جنہوں نے پوٹھوہار کو صرف شاعری میں نہیں برتا بلکہ اسے اپنی فکر، صحافت، تدریس، سماجی خدمت اور ادبی جدوجہد کا موضوع و مقصد بنایا۔ وہ شاعر بھی تھے، ادیب بھی؛ معلم بھی تھے، صحافی بھی؛ منتظم بھی تھے اور پوٹھوہاری تہذیب و زبان کے ایسے پاسبان بھی جنہوں نے اپنے عہد میں اس خطے کی آواز کو بڑے ادبی اور ابلاغی مراکز تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ محمد دلپذیر شاد 10 جنوری 1941ء کو فضل الٰہی مرحوم کے گھر موہڑہ راجوال، تھوہا خالصہ، تحصیل کہوٹہ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم تھوہا خالصہ میں حاصل کی اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول کلرسیداں سے 1957ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ میٹرک کیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ان کے اندر کا شاعر بیدار ہوا۔ لفظ ان کے لیے محض اظہار کا وسیلہ نہ رہے بلکہ رفتہ رفتہ ان کی زندگی کا حوالہ بن گئے۔ 1959ء میں لاہور کالج سے ایف اے اور 1960ء میں ایس وی کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1962ء میں سرکاری شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوئے۔ پھر زندگی کا ایک طویل حصہ درس و تدریس کے نام کر دیا۔ مختلف سرکاری سکولوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے انہوں نے نسلوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھائیں بلکہ علم، تہذیب اور کردار کا مفہوم بھی سمجھایا۔ یکم ستمبر 1990ء کو بطور استاد ریٹائر ہوئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل تدریس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہی؛ کیونکہ ان کی تحریر، شاعری اور ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک مسلسل درس گاہ بن گئیں۔ دلپذیر شاد کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو صحافت سے ان کی وابستگی ہے۔ کلرسیداں سے شائع ہونے والے پہلے ہفت روزہ "سنگِ پوٹھوہار" کا اجرا 16 جون 1989ء کو ہوا اور اس کی اشاعت 2007ء تک جاری رہی۔ یہ محض ایک اخبار نہ تھا بلکہ پوٹھوہار کے فکری، ادبی اور تہذیبی شعور کا ایک ترجمان تھا۔ ایسے دور میں جب علاقائی زبانوں اور مقامی ادبی سرگرمیوں کے لیے ذرائع محدود تھے، "سنگِ پوٹھوہار" جیسے پلیٹ فارم کا قیام ایک فرد کی کاوش سے بڑھ کر ایک تہذیبی خدمت تھی۔ ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے معروف پروگرام "جمہور نی واز" سمیت "آکھو تے آکھاں" اور "چلتا پھرتا مائیکرو فون" جیسے پروگراموں میں ان کی شرکت نے انہیں پوٹھوہاری ادب کی آواز کو وسیع حلقوں تک پہنچانے کا موقع دیا۔ جب پی ٹی وی چکلالہ کا آغاز ہوا تو انہوں نے ٹیلی وژن اور ریڈیو کے ذریعے پوٹھوہار کے شعرائے کرام کو متعارف کرانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ کام معمولی نوعیت کا نہ تھا؛ کیونکہ کسی خطے کے شاعر کو قومی سطح کے ابلاغی اداروں تک پہنچانا دراصل اس خطے کی زبان، ثقافت اور اجتماعی شناخت کو قومی منظرنامے پر جگہ دلانا ہوتا ہے۔ کلرسیداں کے مشاعروں کی نظامت ہو یا قومی و دینی مواقع کی ادبی تقریبات، دلپذیر شاد ہر جگہ ایک فعال اور متحرک کردار کے طور پر موجود رہے۔ ان کی شخصیت میں شاعر کی لطافت اور منتظم کی متانت ایک ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ ملکی سطح کے نامور شعراء کو کلرسیداں کی ادبی محفلوں میں مدعو کرنا اور مقامی ادیبوں و شعراء کو ان کے ساتھ ایک ہی صف میں بٹھانا ان کے وسیع ادبی ظرف کی علامت تھا۔ عالمی ادبی تنظیم پنجابی کانگریس کے پوٹھوہار سے مستقل رکن کی حیثیت سے بھی انہوں نے اس خطے کی نمائندگی کی۔ مشاعروں کے سلسلے میں بھارت کا سفر کیا اور یوں پوٹھوہاری سخن کو سرحدوں سے آگے لے جانے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف ادبی، سماجی اور سرکاری اداروں کی جانب سے 24 سے زائد اعزازات سے نوازا جانا اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی خدمات کسی ایک میدان یا ایک ادارے تک محدود نہیں تھیں۔ ماسٹر دلپزیر شاد صاحب کی تصانیف ان کے وسیع مطالعے، فکری تنوع اور تخلیقی مزاج کی گواہی دیتی ہیں۔ "انمول سخن"، "بکھرے موتی"، "شہادتِ حسینؑ"، "سانجھے سیک"، "پاک وطن دی خاطر لہو"، "ویلے نی اکھ"، "پوٹھوہاری لغات"، "خوابوں کا شہرِ کرم"، "شانِ اولیاء"، "اردو غزل کا پوٹھوہاری رنگ"، "کملی والے محمد ﷺ" اور "حبیبِ خدا" جیسے عنوانات اس بات کے شاہد ہیں کہ ان کے قلم نے عشق، عقیدت، وطن، زبان، لوک روایت، صوفیانہ فکر اور انسانی جذبات کو مختلف پیرایوں میں چھوا۔ ان کے ہاں پوٹھوہار محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس ہے۔ وہ اپنی شناخت کو چھپاتے نہیں بلکہ فخر سے بیان کرتے ہیں: پنڈی ضلع کہوٹہ تحصیل میری اے ملک اسلامی پاکستان میرا مرکز مشہور پوٹھوہار دا اے قصبہ خاص کلرسیداں میرا خاص ڈاکخانہ کمترین دا اے مغل قوم رکھدا خاندان میرا ہے نام محمد دلپذیر بندیا نالے شاد تخلص پہچان میرا یہ چند مصرعے دراصل ان کی پوری شخصیت کا مختصر تعارف بھی ہیں اور پوٹھوہار سے ان کی والہانہ وابستگی کا منشور بھی۔ یہاں شاعر اپنے نام کے ساتھ اپنی مٹی کا نام لکھتا ہے، اپنی تحصیل کا حوالہ دیتا ہے، اپنے قصبے کو اپنی شناخت بناتا ہے اور اپنے تخلص "شاد" کو اپنے شعری وجود کی پہچان قرار دیتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو کسی شاعر کو محض شاعر سے بڑھا کر اپنے خطے کا نمائندہ بنا دیتی ہے۔ محمد دلپذیر شاد 9 ذوالحجہ، بمطابق 23 ستمبر 2015ء، بروز بدھ، اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ مگر اہلِ قلم کی موت ان کے جسم کے ساتھ ہوتی ہے، ان کے لفظوں کے ساتھ نہیں۔ ایسے لوگ اپنے بعد کتابیں چھوڑتے ہیں، یادیں چھوڑتے ہیں، شاگرد چھوڑتے ہیں، روایت چھوڑتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اپنے خطے کے حافظے میں ایک ایسا روشن چراغ چھوڑ جاتے ہیں جس کی روشنی آنے والی نسلیں بھی محسوس کرتی رہتی ہیں۔ آج جب ہم پوٹھوہار کی ادبی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو دلپذیر شاد ایک ایسے باب کی صورت میں سامنے آتے ہیں جسے نظرانداز کرنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے شاعری کی، مگر صرف شاعری نہیں کی؛ انہوں نے پڑھایا، مگر صرف سبق نہیں پڑھایا؛ انہوں نے صحافت کی، مگر صرف خبر نہیں لکھی؛ انہوں نے مشاعرے سجائے، مگر صرف محفل نہیں سجائی—انہوں نے اپنے عہد میں پوٹھوہار کی زبان، ثقافت اور ادبی شناخت کی حفاظت اور ترویج کا فریضہ ادا کیا۔ اسی لیے ماسٹر محمد دلپذیر شاد کو یاد کرنا دراصل پوٹھوہار کی ایک پوری ادبی روایت کو یاد کرنا ہے۔ وہ ایک فرد نہیں، ایک حوالہ تھے؛ ایک شاعر نہیں، ایک دبستان تھے؛ ایک معلم نہیں، ایک نسل ساز تھے؛ اور ایک ادیب نہیں، اپنی مٹی کی آواز تھے۔ پوٹھوہار جب بھی اپنی ادبی تاریخ کا آئینہ دیکھے گا، اس آئینے میں محمد دلپذیر شاد کا چہرہ ضرور دکھائی دے گا۔ یہی ان کا اعزاز ہے، یہی ان کی میراث اور یہی ان کے فن کی اصل زندگی ہے۔ راقم السطور سائیں ظہور قریشی آف مندرہ

کلام

اس شاعر کا کلام ابھی شامل نہیں ہوا۔