
گوجرخان
سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں پائخان، گوجرخان، ضلع راولپنڈی «“کچھ لوگ وقت کے ساتھ گزر جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ وقت گزرنے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی زندگی صرف ان کی اپنی نہیں ہوتی، وہ ایک زبان، ایک ثقافت، ایک روایت اور ایک پورے عہد کی نمائندگی کرتی ہے۔ سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں بھی پوٹھوار کے انہی بے لوث سپوتوں میں سے تھے، جنہوں نے اپنے لہجے کو شاعری، اپنی آواز کو ثقافت اور اپنے دل کو عشقِ رسول ﷺ کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی دبنگ شعرخوانی نے محفلوں کو گرمایا، ان کی نظامت نے ثقافتی اجتماعات کو رونق بخشی، ان کے قلم نے پوٹھوار کے احساسات کو لفظ عطا کیے اور ان کی محبت نے انہیں آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھا ہے۔”» تعارف نام: سائیں عبدالرحیم تخلص: رخیم سائیاں پیدائش: 17 نومبر 1961ء وفات: 13 دسمبر 2003ء آبائی گاؤں: پائخان، گوجرخان، ضلع راولپنڈی استادِ سخن: فاضل شائق تصنیف: انمول سوچاں شعبۂ خدمات: شاعری، شعرخوانی، نظامت، ثقافتی و ادبی خدمات خصوصی اعزاز: اسٹیج کے بے تاج بادشاہ پوٹھوار کا ایک یادگار نام پوٹھوار کی مٹی نے ہمیشہ ایسے اہلِ کمال پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر اپنی دھرتی، زبان، ادب اور ثقافت سے محبت کی۔ سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں بھی اسی روشن روایت کے ایک معتبر نام تھے۔17 نومبر 1961ء کو گاؤں پائخان، گوجرخان، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہونے والے سائیں رخیم سائیاں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پوٹھواری ادب، شعرخوانی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے وقف کیے رکھا۔وہ صرف شاعر نہیں تھے؛ وہ ایک دبنگ لہجے کے صاحبِ اسلوب شعرخوان، پرجوش اسٹیج سیکرٹری، ثقافت کے بے لوث خادم اور محفل آرائی کے ماہر تھے۔انکے شاگرد جنکی دوست احباب نے تصدیق کی راجہ غلام جیلانی رجب آف بڑکی بدھال گوجرخان حال مقیم گریس ہیں جب وہ اسٹیج پر آتے تو محفل محض محفل نہیں رہتی تھی، ایک کیفیت اختیار کر لیتی تھی۔ ان کے اندازِ بیان میں جوش بھی تھا، ولولہ بھی، برجستگی بھی اور پوٹھواری مٹی کی وہ مخصوص خوشبو بھی جس سے سامعین خود کو جڑا ہوا محسوس کرتے تھے۔ عشقِ رسول ﷺ — دل کی سب سے بڑی دولت سائیں رخیم سائیاں کی زندگی کا ایک نہایت روشن اور قابلِ احترام پہلو عشقِ رسولِ کریم ﷺ تھا۔ وہ انجم ثناء خوانِ محمد ﷺ کے بانی اور سرپرستِ اعلیٰ تھے۔ محبتِ رسول ﷺ ان کے لیے محض ایک عقیدہ یا موضوعِ سخن نہیں بلکہ زندگی کا عملی جذبہ تھا۔ وہ اپنی وفات تک ہر سال ولادتِ رسولِ کریم ﷺ کے سلسلے میں محفلِ مشاعرہ منعقد کرواتے رہے۔ ان محافل میں پوٹھوار اور کشمیر کے جید شعراء شریک ہوتے اور شعر و ادب کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو بھی چار سو پھیلتی۔ وہ علمی اور ادبی نشستوں کے اہتمام کا بھی خاص ذوق رکھتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ اہلِ سخن ایک دوسرے سے ملیں، شعر و ادب پر گفتگو ہو اور پوٹھواری ادبی روایت آگے منتقل ہوتی رہے۔ ان کے دل کی ترجمانی ان کے اس شعر میں پوری شدت سے محسوس ہوتی ہے: «دنیا رہوے نہ رہوے رخیم سائیاں ذکرِ آلِ رسول ضرور رہسی» یہ شعر محض ایک شعر نہیں، بلکہ رخیم سائیاں کے فکری اور روحانی سفر کا خلاصہ محسوس ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز فنا پذیر ہے، انسان بھی رخصت ہو جاتا ہے، مگر محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ ذکر وہ دولت ہے جو نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ فاضل شائق — استادِ سخن شاعری میں سائیں رخیم سائیاں کے استاد فاضل شائق تھے۔ استاد سے فیض حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اپنے شعری ذوق کو ایک واضح سمت دی اور ایسا انداز اپنایا جو بعد میں ان کی شناخت بن گیا۔ ان کے کلام میں پوٹھوار کی روزمرہ زندگی، انسانی رویے، محبت، دکھ، رشتوں کی نزاکت اور معاشرتی مشاہدات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو: «بڑا مہنگا تے مشکل رخیم سودا خاطر کسے دے زندگی تباہ کرنا» سادہ الفاظ میں زندگی کے ایک بڑے فلسفے کو بیان کرنا ان کی شاعری کی نمایاں خوبی تھی۔ پوٹھوار کی محفلوں میں سائیں رخیم سائیاں کی اپنی ایک الگ پہچان تھی۔ ان کا شعر پڑھنے کا مخصوص انداز سامعین کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا تھا۔ آواز کا اتار چڑھاؤ، مصرعے کی ادائیگی، برجستہ گفتگو اور مناسب موقع پر شعر کا استعمال ان کی شعرخوانی کو منفرد بناتا تھا۔ ان کی شاعری پوٹھوار کے تقریباً ہر شعرخوان تک پہنچی۔ بہت سے شعرخوانوں نے ان کا کلام اپنی محفلوں میں پڑھا اور یوں ان کے الفاظ ان کی زندگی کے بعد بھی لوگوں تک پہنچتے رہے۔ یہی ایک شاعر کی اصل زندگی ہے کہ اس کی آواز خاموش ہونے کے بعد بھی اس کا شعر بولتا رہے۔ اسٹیج کا بے تاج بادشاہ سائیں رخیم سائیاں کی شخصیت کا ایک اور نمایاں حوالہ ان کی اسٹیج سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات ہیں۔ ثقافتی پروگرام ہوں یا محفلِ شعرخوانی، وہ اسٹیج کو اس انداز سے سنبھالتے کہ محفل میں ایک خاص روانی پیدا ہو جاتی۔ ان کی حاضر جوابی، برجستگی، پرجوش اندازِ گفتگو اور شعراء و سامعین سے براہِ راست رابطہ ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اسی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے ثقافتی حلقوں میں انہیں “اسٹیج کا بے تاج بادشاہ” بھی کہا جاتا تھا۔ یہ اعزاز محض الفاظ نہیں تھے؛ اس کے پیچھے برسوں کی محفل شناسی، مطالعہ، مشاہدہ اور ثقافت سے سچی وابستگی موجود تھی۔ “انمول سوچاں” — ایک ادبی ورثہ سائیں رخیم سائیاں کی خوبصورت شاعری کو کتابی شکل میں بھی محفوظ کیا گیا، جس کا نام “انمول سوچاں” تھا۔ یہ کتاب پوٹھوار کے ادبی حلقوں میں پسند کی گئی اور اہلِ ذوق نے اسے شوق سے خریدا اور پڑھا۔ انمول سوچاں ان کے شعری احساسات اور فکری دنیا کا ایک اہم حوالہ ہے۔ ایسی کتابیں صرف کاغذ پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں ہوتیں؛ یہ دراصل ایک دور کی آواز، ایک شاعر کی سوچ اور ایک ثقافت کی ادبی یادداشت ہوتی ہیں۔ ثقافت کے لیے ایک بے لوث زندگی سائیں رخیم سائیاں نے ثقافت کو صرف شوق کے طور پر نہیں اپنایا تھا بلکہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔ گرمی ہو یا سردی، دن ہو یا رات، وہ ثقافتی پروگراموں اور محفلِ شعرخوانی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ ان لوگوں کی خدمات کو سمجھنے کے لیے اس دور کے حالات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ آج سہولیات نسبتاً آسان ہیں، مگر ایک وقت تھا جب شعراء اور شعرخوان حضرات اپنی جیب سے کرایہ خرچ کرکے دور دراز علاقوں کی محفلوں میں پہنچتے تھے۔ اپنے گھر، بیوی بچوں اور ذاتی آرام سے وقت نکال کر ثقافت کے لیے راتیں باہر گزارنا معمولی قربانی نہیں تھی۔ شعرخوانی بہت سے لوگوں کا ذریعۂ معاش بھی رہی، مگر ایسے بے شمار لوگ بھی تھے جنہوں نے بغیر کسی ذاتی مفاد کے اپنی ثقافت کو وقت، توانائی اور وسائل دیے۔ سائیں رخیم سائیاں انہی بے لوث لوگوں میں شامل تھے۔ اپنے محسنوں کو یاد رکھنا ہوگا آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان لوگوں کو صرف یاد نہ کریں بلکہ ان کے نام اور کام کو محفوظ بھی کریں۔ پوٹھوار کی ثقافت کسی ایک دن یا ایک نسل کی محنت کا نتیجہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایسے بے شمار شاعر، شعرخوان، فنکار، منتظم اور ثقافتی کارکن موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت اس دھرتی کے نام کیا۔ اگر ہم نے ان کا ذکر نہ کیا تو آنے والی نسل شاید یہ جان ہی نہ سکے کہ پوٹھواری ادب اور ثقافت کے سفر میں کن لوگوں نے اپنی زندگیاں صرف کی تھیں۔ سائیں رخیم سائیاں جیسے لوگوں کا تذکرہ دراصل اپنی ثقافتی تاریخ کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔ ان کے اشعار پڑھنا، ان کی کتاب کو محفوظ کرنا، ان کے فن کا ذکر کرنا اور نئی نسل کو ان کے بارے میں بتانا ہی ان کے لیے اصل خراجِ عقیدت ہے۔ ایک نام جو آج بھی زندہ ہے سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں 13 دسمبر 2003ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی آواز خاموش نہیں ہوئی۔ وہ اپنے اشعار میں زندہ ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔ وہ ان محفلوں میں زندہ ہیں جہاں آج بھی ان کا کلام پڑھا جاتا ہے۔ وہ انمول سوچاں کے صفحات میں زندہ ہیں۔ وہ پوٹھوار کی اس ثقافت میں زندہ ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی۔ اور شاید یہی کسی شاعر کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کا وجود ختم ہو جائے مگر اس کا لفظ باقی رہ جائے۔ سائیں رخیم سائیاں نے خود کہا تھا: «دنیا رہوے نہ رہوے رخیم سائیاں ذکرِ آلِ محمدؑ ضرور رہسی» واقعی! دنیا رہے یا نہ رہے، وقت بدلے یا نہ بدلے، مگر اہلِ دل اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں۔ اور جب تک پوٹھوار میں شعر پڑھا جاتا رہے گا، جب تک اس دھرتی کی ثقافت کا ذکر ہوتا رہے گا، جب تک عشقِ رسول ﷺ سے معمور کلام محفلوں میں گونجتا رہے گا، سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں کا نام بھی کسی نہ کسی زبان پر ضرور رہے گا۔ دعائے مغفرت اللہ تعالیٰ سائیں عبدالرحیمؔ رخیم سائیاں مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی ادبی، ثقافتی اور دینی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ کاروانِ ادب انٹرنیشنل “جنہوں نے ثقافت کو وقت دیا، آنے والی نسلوں کو ان کا نام دینا ہوگا۔”
